سندھ میں ڈاکو مغویوں کی بیویوں اور بیٹوں سے زیادتی کرکے فلمیں بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرنے لگے
کراچی (انتخاب نیوز) سندھ کے کچے کے ڈاکوو¿ں کی جانب سے مغویوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف آج سندھ کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے سامنے کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں امن و امان کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل زاہد مزاری نے بتایا کہ اغوا کرکے مغویوں کی کمسن بچیوں اور بیویوں کو بلاکر زیادتی کرکے فلمیں بناکر ڈارک ویب پر فروخت کی جارہی ہیں، اس کام میں بااثر افراد بھی ملوث ہیں، جو ایس ایس پی یہاں اچھا کام کرے گا اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ اغوا برائے تاوان انڈسٹری بن چکی ہے، سالانہ دو ارب کا کاروبار ہوتا ہے۔ سکھر لاڑکانہ ریجن میں اغوا برائے تاوان اور بد امنی کیس کی سماعت میں ہوم سیکرٹری سعید منگنیجو، آئی جی سندھ غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ پولیس کو کچے میں اغوا برائے تاوان،اسٹریٹ کرائم اور نارکوٹیکس کیسز کا سامنا ہے، 275 ڈاکوو¿ں کی سر کی قیمت 52 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ سماعت میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل زاہد مزاری نے بتایا کہ اغوا کرکے مغویوں کی کمسن بچیوں اور بیویوں کو بلاکر زیادتی کرکے فلمیں بناکر ڈارک ویب پر فروخت کی جارہی ہیں۔ اس موقع پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ عام مغوی رہائی کے بعد بتاتا ہے کہ فلاں وزیر کے پی اے نے پیسے لیکر رہائی دلوائی، آپ نے نشاندہی کرنی ہے کہ ڈاکوو¿ں کی سہولت کاری کون کرتا ہے، ہمارے پاس دو آپشن ہیں یا جدید ہتھیار دیں یا جوائنٹ آپریشن کریں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ 24 گھنٹوں میں لانگ ٹرم پلان، شارٹ ٹرم پلان کے پوائنٹس لکھ کر پیش کریں۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ انہیں تنگ کرنے والے کرمنلز سے جاری لڑائی میں پولیس کو سپورٹ کریں، 275 ڈاکوو¿ں کے سر کی قیمت مقرر کی گئی ہے، جن میں 13 سے 14 سرینڈر بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو ڈرپوک پولیس آفیسرز ہیں یا جو ڈاکوو¿ں سے ملے ہوئے ہیں ان کے خلاف بھرپور کارروائی پہلے بھی کی گئی ہے اور آئندہ بھی کی جائے گی۔


