حکومت اور پولیس تاجروں کو تحفظ فراہم نہیں کررہی، ڈکیتی کی وارداتوں کا سدباب کیا جائے، کوئٹہ انڈسٹریز ایسوسی ایشن
کوئٹہ:” کوئٹہ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین صالح آغا ‘ ڈاکٹر داد محمد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فلورملز تاجر برادری سمیت عوام کو تحفظ دیا جائے آئے روز بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں کا سدباب کرنے کے لئے انتظامات کئے جائیں تاکہ ہم اپنا کاروبار کر سکیں حکومت ہمیں اپنی حفاظت کے لئے لائسنس یافتہ اسلحہ اور پرائیویٹ گارڈ رکھنے کی اجازت دیں عدم تحفظ کی وجہ سے باامر مجبوری ہم کاروباری مراکز کی چابیاں حکومت اور انتظامیہ کے حوالے کردیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو حاجی عصمت ‘ بلال آغا سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ فلورملز کاروباری ادارے صنعتی مراکز میں حکومت اور پولیس کی جانب سے تاجروں اور کاروباری لوگوں کو تحفظ نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے شدید مشکلات پیدا ہونے کے علاوہ انڈسٹریز میں خوف کی فضاءقائم ہو چکی ہے چوری ‘ ڈکیتی کی وارداتیں دن دیہاڑے رونما ہو رہی ہیں ڈاکو صنعتی اداروں میں گھس کر تاجروں سمیت عوام کو زدوکوب کرکے نقدی اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہو رہے ہیں فلورملز سمیت دیگر کاروباری صنعتی مراکز عدم تحفظ کا شکار ہیں ہم کاروبار کریں یا اپنی حفاظت کریں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشی بنے بیٹھے ہیں انہیں عوام کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں کاروباری حضرات کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ہم اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے امن وامان کی فراہمی اور دیگر سہولیات ناپید ہو چکی ہیں اب تو حالات اس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ کوئی بھی ڈاکو آکر ہمیں لوٹ کر چلا جاتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں تجارتی علاقے ٹیکس بھی دے رہے ہیں اس کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا حکومت اس حوالے سے اداروں کو الرٹ کرے تاجر برادری بزنس کمیونٹی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے آئی جی پولیس بلوچستان ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تجارتی مراکز کے نمائندوں کا اجلاس منعقد کریں تاکہ ہم اپنے تحفظات سے آگاہ کریں اور ہمیں تحفظ دیا جائے حکومت ہمیں لائسنس یافتہ اسلحہ اور پرائیویٹ گارڈ رکھنے کی اجازت دے تاکہ ہم اپنی حفاظت اور تجارتی مراکز میں امن کی بحالی کو یقینی بناسکیں اگر ہمارے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو ہم اپنے کاروبار کو دوسرے صوبوں میں منعقل کر سکتے ہیں کاروباری مراکز میں ہمیں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور نہ ہی پولیس سمیت دیگر ادارے تحفظ فراہم کررہے ہیں ہماری وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو ‘ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو ‘ چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی ‘ آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ سے اپیل ہے کہ وہ ہمیں تحفظ دے بصورت دیگر ہم اپنے کاروبار ی مراکز کی چابیاںحکومت اور انتظامیہ کے حوالے کر دیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بننے والا سریا سندھ ‘ پنجاب اور دیگر شہروں میں جارہا ہے یہاں پر ہمارا ایک ٹن سریا فروخت نہیں ہورہا جس کی بڑی وجہ سیکورٹی اداروں اور کسٹم سمیت دیگر کی ملی بھگت سے ایران سے آنے والا سریا شہر کے تمام سریا فروخت کرنے والے گوداموں میں موجود ہے جس سے میں نقصان ہورہا ہے حکومت اس کے لئے کوئی پالیسی ترتیب دے تاکہ اس صورتحال کو بہتر بنایاجاسکے گزشتہ دنوں انڈسٹری ایریا میں ڈکیتی کے دوران ڈاکو لاکھوں لوٹ کر ایک شخص کو قتل کرکے فرار ہوگئے تھے ہمیں تحفظ دیا جائے حالانکہ ہم ٹیکس دیتے ہیں اس کے بدلے میں کوئی سہولت میسر نہیں۔


