بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے,ہدایت الرحمان

گوادر ( بیورو رپورٹ ) گوادر کے دیہی علاقے کلاچ میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ان کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ لاپتہ افراد کے نام پر اسمبلیوں میں وزارت حاصل کرنے والے اسمبلیوں میں اس متعلق دو ٹوک موقف رکھنے میں اب تک ناکام ہیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچ حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اپنے ایک بیان میں امبی بیلار کلاچ سے ریاستی اداروں کی جانب سے ٹھیکیدار صابر کلاچی سمیت تین نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور چادر و چاردیواری کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے اور بلوچ ماو¿ں کے ہزاروں لخت جگر عقوبت خانوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جبکہ لاپتہ افراد کے نام پر اسمبلیوں میں وزارت تک حاصل کرنے والوں کو صوبے کے سب سے بڑے عہدے سے بھی نوازا گیا مگر نہ تو لاپتہ افراد کا معاملہ ختم ہوا اور نہ ہی اس متعلق اسمبلیوں میں کوئی دو ٹوک موقف اپنایا گیا۔ مولانا نے واضح طور پر کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور گوادر کلاچ سے لاپتہ لوگوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں