امید ہے آپ بلوچستان کی مائوں بہنوں کی آواز بنیں گے، مولانا ہدایت الرحمان کا گورنر کے نام کھلا خط
گوادر (مانیٹرنگ ڈیسک)حق دو تحریک بلوچستان نے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے جوڈیشل لاک اپ سے گورنر بلوچستان ملک ولی کاکڑ کے نام کھلا خط لکھ ڈالا ۔ خط میں مولانا ہدایت الرحمان نے لکھا کہ آپ اس صوبے کے عوام کی نمائندگی کررہے ہیں جن کے پیارے سالوں سے لاپتہ ہیں۔ اس لئے امید کرتا ہوں کہ آپ ان مائوں بہنوں کی آواز بنیں گے۔ ان بزرگوں کو حوصلہ دیں گے جن کو داڑھی سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا گیا۔ ان سیاسی کارکنان کی سرپرستی کریں گے جن پر سینکڑوں مقدمات قائم کئے گئے آپ کا تعلق جس قوم پرست جماعت سے ہے انھوں نے گوادر آپریشن کی حمایت ہی نہیں بلکہ سرپرستی بھی کی گوادر کے سیاسی کارکنان پر 219 مقدمات قائم کئے گئے ، پولیس اور ایف سی کی جانب سے چادر اور چار دیواری کی پامالی کی گئی۔ خواتین پر بدترین تشدد کیا گیا مگر آپ کی جماعت کی طرف سے مذمت کے دو جملے بھی ادا نہیں کئے گئے مگر آپ سے امید ہے کہ آپ جرات کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ آپ اس والد کے فرزند ہیں جنھوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، تکلیفیں برداشت کیں۔ آپ نے خود اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں کسی پارٹی یا کسی قوم کا گورنر نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا گورنر ہوں۔ آپ کے اس بیان نے مجھے مجبور کیا آپ کو مراسلہ تحریر کروں۔ یہ منصب چند دنوں کے لئے ہوتے ہیں۔ انسان کے ساتھ اس کے عہدے اور منصب بھی فانی ہیں لیکن انسان کا کرداراور اعمال یاد رکھے جاتے ہیںہماری ماں بہنوں بھائیوں بچوں اور بزرگوں کے جسموں پر آج بھی پولیس اور ایف سی کے ڈنڈوں کے نشانات موجود ہیں اور بلوچستان کے غیرت مند عوام اس تشدد کو کبھی نہیں بھول سکتے اور نہ ہی تشدد کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو بھول سکتے ہیںآپ سے یہ بھی امید ہے کہ آپ ساحل بلوچستان میں ٹرالرز کی یلغار، بارڈر پر بھتہ خوری، منشیات کے اڈے، چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل، اسکولوں اور ہسپتالوں پر چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے مافیا کو بھی ختم کرنے کے لئے مناسب اقدامات کریں گے۔ بلوچستان میں حکومت کی سربراہی جس کے پاس ہے وہ ہفتوں سویا رہتا ہے امید ہے کہ اس کو جگا کر عوام کے دکھ درد سے آگاہ کریں گے۔ آپ سے یہ بھی امید ہے کہ آپ بلوچستان کے عوام کے دکھ درد کو کم کرنے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے، ماں بہنوں بزرگوں کے آنسو پونچھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے بلوچستان میں گورنر بہت آئے اورگئے ان میں سے چند کو ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بھی تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو بلوچستان کے مظلوم، محروم، تشدد زدہ زخمی عوام کے لئے کچھ کرکے جائیں۔ ان شااللہ بلوچستان کا بچہ بچہ آپ کو یاد رکھے گا۔


