ڈیرہ اللہ یار، محکمہ خوراک کے اعلان کے باوجود گندم خریداری مراکز قائم نہ ہوسکے
جعفرآباد ( آن لائن ) ڈیرہ اللہ یار میں محکمہ خوراک کے اعلان کے باوجود گندم کی خریداری کے لیے سینٹر قائم نہ ہوسکے، گندم کی بین الاضلاع نقل و حمل پر پابندی کے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیوپاریوں نے کاشتکاروں سے اونے پونے گندم کی خریداری شروع کر رکھی ہے، رپورٹ کے مطابق: سیلاب زدہ علاقے ڈیرہ اللہ یار اور گردونواح کے علاقوں میں گندم کی فصل تیار ہو گئی، اکثر علاقوں میں گندم کی کٹائی بھی شروع ہوچکی ہے، تاہم محکمہ خوراک کی جانب سے تاحال گندم کی خریداری شروع نہیں کی گئی، سیکریٹری خوراک بلوچستان اور کمشنر نصیرآباد ڈویڑن بشیر احمد بنگلزئی چند روز قبل اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران نصیرآباد ڈویڑن کے جعفرآباد، اوستہ محمد، جھل مگسی، صحبت پور اور نصیرآباد سے 10 لاکھ بوریاں گندم خرید کرنے کے لیے 23 خریداری مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، اور گندم کی بین الاضلاع نقل و حمل پر دفعہ 144 نافذ کی تاکہ گندم کی اسمگلنگ نا ہوسکے، جسکے بعد ریونیو افسران نے اپنے علاقوں میں چوکیاں قائم کرکے گندم کی نقل و حمل کو محدود کر دیا، لیکن گندم خریداری میں تاخیر اور نقل و حمل پر پابندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی بیوپاری گندم کی خریداری کے لیے سرگرم ہوچکے ہیں، مقامی بیوپاری دیہی علاقوں میں جا کر کاشتکاروں سے اونے پونے گندم خرید کرکے اسٹاک کرنے لگے، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت چار ہزار روپے فی من مقرر کرنے کے بعد خریداری میں تاخیر کے باعث بیوپاریوں نے گندم کی قیمت گرا دی ہے، کہیں 3500 تو کہیں 3800 روپے فی من گندم خریدنے کی بولی لگائی جا رہی ہے، بیج کھاد اور دیگر اخراجات سمیت مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے کاشتکار مقامی بیوپاریوں کو گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں، کاشتکاروں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد اعلان کردہ قیمت پر گندم کی خریداری شروع کی جائے تاکہ گندم بیوپاریوں کے ہاتھ فروخت ہونے کے بعد دیگر ممالک کو اسمگلنگ سے بچ سکے اور صوبے میں غذائی قلت پر قابو پایا جاسکے۔


