کھڈ کوچہ، کانک، دشت کردگاپ اور گردونواح میں اتائی ڈاکٹروں کی بھر مار ہے، بی ایس او پجار
کوئٹہ (یو این اے) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(پجار)کے زونل ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گرمیوں کا سیزن شروع ہوتے ہی سٹی کھڈکوچہ، کانک، دشت کردگاپ اور گردونواح میں عطائی ڈاکٹروں کا بھر مار، بغیر ڈپلومہ ہولڈرز عطائی ڈاکٹر عوام کے زندگیوں سے کھیل کر غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ناتجربہ کار عطائی ڈاکٹرز مرض کی تشخیص کیے بغیر اینٹی بائیوٹک وورن جیسے ہائی ڈوز انجکشنوں، غیر معیاری کمپنیوں کے ادویات کا بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں جس سے امراض کڈنی، ایڈز اور کڈنی فیلئیر جیسے خطرناک بیماریاں شہر بھر اور دیہی علاقوں کے عوام میں تیزی سے رپورٹ ہورہی ہیں جو انتہائی تشویشناک امر ہے استعمال شدہ سرنجوں کی زیادہ تر استعمال اور غیر معیاری ادویات سے ایڈز کی بیماری عام ہوتی جارہی ہے ڈرگ انسپکٹر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی غفلت اور لاپرواہی سے عوام عطائی ڈاکٹروں کی رحم و کرم پر ہیں اکثر و بیشتر عطائی ڈاکٹروں کا تعلق سندھ اور ڈیرہ مراد جمالی سے ہیں جو گرمیوں کی آمد پر آکر غیر قانونی طریقے سے محکمہ صحت کے عملے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ساتھ خفیہ ڈیل کرکے کلینکس کھولتے ہیں یہی عطائی ڈاکٹرز جب سندھ اور ڈیرہ مراد جمالی سے آتے ہیں تو انکے پاس سائیکل تک نہیں ہوتی انسانی جانوں سے کہلواڑ کرکے یہاں جائیدادوں اور گاڑیوں کا مالک بن جاتے ہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر غیر قانونی کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کرنے کی نام پر کلینکس سیل کرتے ہیں اور بعد میں انہیں اپنے آفس طلب کرکے عطائی ڈاکٹروں سے باری رقم وصول کرکے کیلنکس پر لگائی گئی سیل کو ختم کردیتی ہے جو عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مترادف ہے عوام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور محکمہ ہیلتھ سے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی توقعات وابستہ نہ کریں محکمہ صحت مستونگ کے عملے بذت خود عطائی ڈاکٹروں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں ڈی ایچ او سے لیکر ڈرگ انسپکٹر تک عطائی ڈاکٹروں سے اپنے شئیر وصول کرتے رہتے ہیں زونل ترجمان نے کہا کہ عطائی ڈاکٹروں اور شریک سہولت کاروں اور شئیر اولڈروں کے خلاف بی ایس او پجار سخت احتجاج اپنائیں گی۔


