بلوچستان میں بھی رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے، عادل جہانگیر

کوئٹہ : ایڈ بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل جہانگیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ رائٹ ٹو انفار میشن کمیشن کا قیام فی الفور عمل میں لایاجائے تاکہ بلو چستان کے عوام بھی دوسرے صوبوں کی طرح اس اہم قانون سے مستفید ہو سکیں ۔ یہ بات منگل کو بہرام لہڑی، شہزان ولیم کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ رائٹ ٹو انفار میشن بلو چستان ایکٹ کو بلو چستان اسمبلی سے پاس ہوئے 2سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر رائٹ ٹو انفار میشن کمیشن بلو چستان ابھی تک قیام عمل میں نہیں لایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ایڈ بلو چستان گزشتہ 7سالوں سے معلومات تک رسائی کے قانون کے عمل در آمد کے لئے کا م کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری انتھک محنت کی بدولت فروری 2021میں بلو چستان حکومت نے بلو چستان رائٹ ٹو انفار میشن ایکٹ 2021پا س کیا ۔ انہوں نے کہاکہ 120دنوں کے اند راند ر رائٹ ٹو انفار میشن ایکٹ پر عمل در آمد کر نا تھا جو کہ اس قانون میں لکھا ہے مگر اب تک رائٹ ٹو انفار میشن بلو چستان کمیشن نہیں بن سکا۔ انہوں نے کہاکہ ایڈ بلو چستان نے پبلک اکاﺅنٹیبلیٹی فورم کے ارکان کو خیبر پختون خوا ہ اور پنجاب رائٹ ٹو انفار میشن کمیشن کا وزٹ بھی کروایا کہ یہ کمیشن کس طرح کام کر تا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے انفار میشن ڈیپارٹمنٹ تمام محکماجات کو انفار میشن آفیسر لگانے کے لئے خطوط ارسال کر چکے ہیں جن میں صرف پندرہ محکموں نے اپنے انفار میشن آفیسرز تعینات کئے ہیں لیکن لگائے گئے انفار میشن آفیسر اس قانون سے بابلد ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلو چستان سے مطالبہ کیا ہے کہ رائٹ ٹو انفار میشن کمیشن کا قیام فی الفور عمل میں لایاجائے تاکہ بلو چستان کے عوام بھی دوسرے صوبوں کی طرح اس اہم قانون سے مستفید ہو سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں