بلوچستان اسمبلی اجلاس، قرار دادوں کو اہمیت نہیں دی جاتی، گزشتہ 4 سال میں ایک پر بھی پیشرفت نہیں ہوئی، اراکین

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو ایک گھنٹے کی تاخیرسے ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل کی صدارت میں شروع ہوااجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی بشریٰ رند نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہر گاہ کہ گیس حکام کی غفلت کے باعث کوئٹہ شہر اور اس کے مضافات میں آئے روز بغیر اطلاع گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث گیس کے حادثات رونما ہور ہے ہیں جس کے باعث سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیںحال ہی میں بلوچستان یو نیورسٹی شعبہ انگلش کی سابق چیئر پرسن اور ڈی این فیکلٹی ڈاکٹر فار یہ سعید خان بھی گیس دھماکے کی وجہ بری طرح جھلس کر لقمہ اجل بن گئی۔ جس کی وجہ سے عوام سخت مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں۔ مزید براں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور کم پریشر کے باوجود گیس کے بھاری بھر کم بلوں نے غریب عوام کا جینا محال کر کے رکھ دیا ہے۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ کو ئٹہ اور اس کے مضافات میں گیس حادثات کے نتیجے میں جتنے بھی لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ان کے لواحقین کو فوری طور پر مالی معاوضہ اور جو زخمی ہوئے ہیں ان کے علاج معالجے کا فوری بند وبست اور سلو میٹر کے نام پر بھاری بھر کم گیس بل بھجوائے گئے ہیں ان کو فی الفور ختم کیا جائے۔ تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ قرار داد کے موضونیت پر بات کرتے ہوئے رکن بلوچستان اسمبلی بشری رند نے کہا کہ گیس نہ ہونے سے لوگ سلنڈر استعمال کررہے ہیں جس کے باعث دھماکے اور حادثات رونما ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ سردی میں عوام خوار ہوتی رہی تاہم وفاق نے ہمارے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیا بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قراردادوں کو اہمیت نہیں دی جاتی گزشتہ 4سالوں کے دوران جتنی قراردادیں پیش کی ہیں ان کا جواب نہیں آیا لگتاہے کہ ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے سوئی گیس کا پریشر نہ ہونے سے لوگ کمپریسر لگانے پر مجبور ہیں ایک تو سوئی گیس نہیں جبکہ بھاری بھر کم بل بجھوائے جارہے ہیں سوئی گیس دھماکوں سے جاں بحق افراد کو معاوضہ ادا کیا جائے پی کے میپ کہ رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا ہے کہ سوئی گیس کے مسئلے پر کئی قراردادیں منظور ہوئی ہیں مگر عمل نہیں ہورہا سوئی سدرن گیس کمپنی کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے ہلاکتیں ہورہی ہیں سوئی گیس دھماکوں میں جتنے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ان کے مقدمات سوئی گیس حکام کے خلاف درج کئے جائیں انہوں نے کہا کہ جی ایم سوئی گیس کو اسمبلی میں بلایا گیا ہے قراردادیں بھی منظور ہوئی ہیں مگر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا کوئٹہ کے اکثریتی علاقوں میں گیس غائب ہے مگر ہزاروں روپوں کے بل ارسال کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ سوئی گیس حکام اب سلو میٹر چارچز کی بجائے اور سروس چارچز کی مد میں ہزاروں روپوں کے بل بھیجے جارہے ہیں سلو میٹر اور سروسز چارجز کے مد میں لی گئی رقم واپس کی جائے رکن اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے کہا کہ سوئی گیس حکام سلو چارجزختم کرکے سروسز چارجز کی مد میں رقم وصول کررہی ہے بی این اپی کے رکن اسمبلی اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں اب تک 6اضلاع کو گیس فراہم کی گئی ہے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی ضرورت پوری نہیں ہورہی ، بلوچستان میں لوگ سوئی گیس زندہ رہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں سوئی گیس کمپنی کو پرائیوٹائز کیا گیا ہے بلوچستان اسمبلی کمپنی کے متعلقہ حکام کو طلب کرکے ان سے مسئلے کا دیرپا حل تلاش کیا جائے بی این پی کی رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ گیس سے ہلاکتوں کی ذمہ دار سوئی گیس حکام ہے کوئٹہ شہر میں گیس کی سڑکوں کو کھود دیا گیا ہے کچھ عرصہ قبل گیس کی بدبوں سے گھروں میں بیٹھنا بھی محال ہوگیا تھا مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، سروسز چارجز کے نام پر سوئی سدرن گیس حکام نے ایک نئی دکان کھول دی ہے اگر بلوچستا ن کو بلاتعطل گیس فراہمی، چارجز کے نام پر عوام کا استحصال نہیں روکا جاتا تو بلوچستان سے باقی ملک کو جانے والے گیس سیلائی کو معطل کیا جائے۔ بلوچستان اسمبلی میں بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہاکہ ایم پی اے لارجز میں قائم فلائٹس کے بل ہزاروں روپے میں آرہے ہیں میرا بل 75 ہزار روپے آیا جس سے متعلق سیکرٹری اسمبلی نے مجھے نوٹس بھی ارسال کیا ہے مگر تعجب ہے کہ ہر ماہ10 ہزارو روپے آنے والا بل اچانک 75 ہزار روپے کیسے ہوا ، انہوںنے کہا کہ اضافی چارجز لگاکر بل ارسال کئے جارہے ہیں پہلے تو گیس دستیاب نہیں لوگ متبادل ایندھن استعمال کررہے ہیں ایسے میں بھاری بھرکم بل بھی جمع کررہے ہیں۔ 90 فیصد بلوچستان میں گیس نہیں نئے کنکشنز لگانے پر پابندی عائد ہے لوگ متبادل ایندھن استعمال کرنے کیساتھ بھاری برقم بل بھی ادا کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت انجینئرنگ زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ وہ15 سال سے بلوچستان اسمبلی کے رکن ہیں اس دوران بلوچستان اسمبلی کا کوئی ایسا اجلاس نہیں ہوا جس میں گیس اور بجلی کے مسائل نہ اٹھائے گئے ہوں ان 15 سالوں کے دوران سینکڑوں قرار دادیں بھی منظور کی گئی ہیں مگر کسی ایک قرار داد پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا کیوں کہ کوئی ہماری بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے، گیس کے ذخائر بلوچستان کی ملکیت ہیں یہاں سے گیس نکلتا ہے مگر صوبے کے لوگوں کو میسر نہیں ہے انہوںنے کہاکہ ہمارے سامنے عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کی عمارتیں ہیں ہمیں ان کے درواز ے پر دستک دینی چاہیے کہ ہمارا جو حق ہے وہ ہمیں نہیں مل رہا ہے انہوںنے کہاکہ یہ مسئلہ اگر حل نہیں ہوتا تو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے پی پی ایل ، او جی ڈی سی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی صوبے کے پیسوں سے کاروبار رکررہے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کواب مسائل کے لئے کھڑے ہونا ہوگا ،المیہ ہے کہ بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس کمپنی کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے،گیس بلوچستان کااور اموات بھی ہماری ہو رہی ہیں اور ہمیں ہی گیس سے محروم رکھا گیا ہے، رکن بلوچستان اسمبلی خلیل جارج بھٹو نے کہاکہ بلوچستان کیساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا اب ازالہ ہونا چاہیے معدنی دولت سے مالا مال صوبے کے لوگ ان کے ثمرات سے محروم ہیںا نہوںنے کہاکہ صوبے میں ہنگامی بنیادوں پر گیس اور بجلی کے مسئلہ کو حل کیا جائے اور اس کیلئے ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سخت رولنگ دیں ، رکن بلوچستان اسمبلی میر سلیم احمد کھوسہ نے کہاکہ ہماری قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے انہیں مارگلہ کی پہاڑوں پر جلا دیا جاتا ہے ہمیں اسلام آباد سے انصاف تو نہیں ملے گا، ہمیں صرف امید عدالتوں سے ہے ان سے ریلیف ملنے کی توقع ہے ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈ رملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی گیس اور بجلی کے مسائل پر متعدد قرار دادیں پاس کی ہیںمگر ان کا کوئی اثر نہیں ہوا گیس حکام کی غفلت کے باعث لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ رکن بلوچستان اسمبلی زبیدہ خیر خواہ نے کہاکہ نواں کلی میں سرے سے گیس موجود ہی نہیںپوری سردی لوگوں نے لکڑیاں جلاکر اپنا گزر بسر کیا ہے ارکان اسمبلی کو اس مسئلہ پر بھر پور احتجاج کرنا چائیے، جمعیت کے رکن اسمبلی سید عزیز اللہ آغا نے کہاکہ بجلی اور گیس کے مسئلہ پر اسلام آباد جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کو وفاقی وزراءنے اہمیت ہی نہیں دی وفاق کے اس رویہ پر افسوس ہے انہوںنے کہاکہ ایک شخص جس کی ماہانہ آمدن 15 ہزار روپے ہے وہ گیس بجلی کے بل ادا کرئیگا یا اپنے بچوں کی روٹی کا بندوبست کرے،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار دادوں کی فہرست پیش کی جائے کہ ان میں سے کتنے قرار دادوں پر عملدرآمد ہوا ہے۔ان قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی بشری رند نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایوان رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر اسرائیلی فوج کی جانب سے وحشیانہ حملہ جس کے نتیجے میں نہتے معصوم نمازی، خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ نہتے معصوم نمازی، خواتین اور بچوں پر اس قسم کا بزدلانہ حملہ انسانی حقوق کی تکمین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی فوج کی اس قسم کی مدد سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ لبہ ابو ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہ معاملہ فوری طور پر اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ بناکر مستقبل میں اس قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے 57 اسلامی ممالک میں کسی نے اسرائیلی جارحیت پر موثر آواز نہیں اٹھائی سب کے سب مذمتی بیانات پر اتفاق کئے ہوئے ہیں فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کھلم کھلا دہشتگردی ہے لوگوں کے گھر اجاڑ دیئے گئے ہیں۔ اگر اب بھی ہم خاموش رہے تو روز قیامت کے دن ہم سے بھی پوچھا جائیگا انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے۔ پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے، یونس عزیز زہری، انجینئرزمرک خان اچکزئی ، میر سلیم کھوسہ، زبیدہ خیر خواہ ، سید عزیز اللہ آغا نے بھی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذمتی قراردادیں کافی نہیں بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے یروشلم امن کا شہر ہے انہوںنے کہاکہ فلسطین میں جو ظلم و جبر ہورہا ہے یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے یہ مسلمانوں کیلئے فکر کرنے کا وقت ہے ، وفاقی حکومت اقوام متحدہ کیساتھ اس معاملہ کو اٹھائے بعدازاں قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں