دنیا میں ایسا نہیں ہوا ابھی قانون اصل شکل میں نہیں آیا اس کو تین رکنی بینچ نے کہا نافذ العمل نہیں ہوگا، وزیراعظم

اسلام آباد :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا میں ایسا نہیں ہوا ابھی قانون اصل شکل میں نہیں آیا اس کو تین رکنی بینچ نے کہا نافذ العمل نہیں ہوگا،جس کشتی میں سوار ہیں اتحادی مل کر اسے کنارے لگائیں گے، اکیلا کچھ نہیں کر سکتاتھا ،ہمارے متحد رہنے سے مخالفین کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں، اتحادی مشاورت سے فیصلے کرتے ہیں، فیصلے تھوپتے نہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سول اور فوجی قیادت نے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ منگل کو اتحادی رہنماﺅں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی مشاورت سے فیصلے کرتے ہیں، فیصلے تھوپتے نہیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام اتحادیوں نے بھرپور ساتھ دیا ہے، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام اتحادی جماعتوں نے بھرپور تعاون اور ساتھ دیا، بہت مشکلات ہیں، نیک مقصد کیلئے کام کر رہے ہیں، یہاں لوٹ مار اور کرپشن نہیں ہو رہی، اکیلا کچھ نہیں کر سکتا تھا، ساتھ دینے پر اتحادیوں کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ، پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے درمیان گذشتہ کچھ ہفتوں سے بعض معاملات چل رہے ہیں، دنیا حیران و پریشان ہے کہ کبھی آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ایک قانون جس نے حتمی شکل اختیار نہیں کی اور اس پر عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بنچ کہہ دے کہ صدر اس قانون پر کوئی رائے دے یا نہ دے، نافذ العمل نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آج بار کونسلز ہماری محبت میں نہیں قانون کی عملداری اور ایسے فیصلے جس سے آئین ،ضعف اور عدل کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس کے خلاف کھڑی ہو گئیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام امور پر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا، یہ اس بات کی گواہی ہے کہ اتحادی حکومت صدق دل سے کوشش کر رہی ہے کہ اس سفر کو منطقی انجام تک پہنچائے، رکاوٹیں دور کریں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے مخالفین کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں کہ یہ اتحاد برقرار ہے اور ٹوٹا کیوں نہیں، ان جماعتوں نے الگ راستہ کیوں نہیں اپنایا، ہمارا اتحاد کامیابی ہے، اسے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا معاملہ آخری مرحلہ میںہے، پیسوں کی آخری شرط بھی پوری کر دی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نیندیں حرام کرکے کوشش کیں، وزیر خارجہ نے بھرپور کوششیں کیں، یہ ملک کیلئے خلوص، درد اور عزم کا اظہار ہے، سپہ سالار نے بھی اس حوالہ سے بے پناہ کاوش کی ہے، یہ وہ چیلنجز ہیں جس کا ہم سب کو سامنا ہے، ہم جس کشتی پر سوار ہیں اس کو کنارے لگائیں گے، منجددھار میں نہیں چھوڑیں گے، ا للہ کی نصرت سے مشکلات میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی ماہ کے آخر میں چین کے نئے وزیراعظم سے بات ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ کے ساتھ بات چیت اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے چار ممالک کے اجلاس کے حوالہ سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بنا کر جو ذمہ داری دی گئی اسے پورا کروں گا۔اجلا س میں مرحوم وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کے حادثے میں انتقال پر رہنماو¿ں کی جانب سے اظہار افسوس کے ساتھ دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی شرکاءکو آگاہ کیا گیا، پیپلز پارٹی نے اجلاس میں مذاکرات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے متعلق بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاو¿س میں حکومتی اتحادیوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق جے یو آئی نے عمران خان سے مذاکرات کی مخالفت کردی۔ذرائع کے مطابق حکومتی اتحادیوں کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے مذاکرات کے معاملے پر اصرار کیا اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) ، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور خالد مگسی کی جانب سے بلاول بھٹو کے مذاکرات کے مو¿قف کی تائید کی گئی۔ذرائع کے مطابق چوہدری سالک اور محسن داوڑ نے بھی بلاول بھٹو کے مو¿قف کی تائید کی تاہم حکومتی اتحادیوں کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے مذاکرات سے متعلق بلاول بھٹو کے مو¿قف کی مخالفت کی۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی نے مو¿قف اپنایا کہ عمران خان کوئی سیاسی قوت نہیں، ڈائیلاگ کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس موقع پر زین بگٹی نے کہا کہ ہم ڈائیلاگ کے مخالف نہیں تاہم عمران خان ایک جھوٹا انسان ہے، عمران خان بھروسے کے لائق نہیں۔ذرائع کے مطابق اس دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ بات چیت کے دروازے بند کردینا ہمارے اصولوں کے خلاف ہے، بات چیت کے دروازے بند کردینا غیرجمہوری اور غیرسیاسی بھی ہے، یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرکے ملک کو بحران سے نکالا جائے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن سے مذاکرات کے معاملے پر اختلاف کے بعد حکومتی اتحادیوں کا اجلاس کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں