عید کے روز وی بی ایم پی کے زیرے اہتمام لاپتہ افراد کی بازیابی، ماہل بلوچ کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی
کوئٹہ(انتخاب نیوز)عید کے روز وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرے اہتمام لاپتہ افراد کی بازیابی، ماہل بلوچ کی رہائی، فیک انکاونٹرز اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ میں ماما قدیر اور حوران بلوچ کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کیاگیا احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ سمیت سیاسی پارٹیوں، طلباء تنظیموں اور دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی احتجاج میں شریک مظاہرین نے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے پلے کارڈز پر لاپتہ افراد کی بازیابی، جبری گمشدگیوں کے روک تھام، فیک انکاونٹرز میں پہلے سے لاپتہ افراد کو قتل کرنا بند کرو اور ماہل بلوچ کی رہائی کے نعرے درج تھے احتجاج میں شریک مظاہرین سے ماما قدیر، حوران بلوچ، لاپتہ زاکر مجید کی والدہ، لاپتہ سیعد احمد شاہوانی، بلوچستان نشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری ایم پی اے احمد نواز بلوچ، نشنل پارٹی کے رہنما حاجی نیاز محمد، بی ایس او (پجار) کے چیرمین زبیر بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری اطلات بالاچ قادر بلوچ، کوئٹہ بار کے سیکرٹری جنرل چینگیز حئی بلوچ، بلوچ وطن پارٹی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، پیپلیز یوتھ الائنس، ہزارہ سیاسی کارکنان اور پروگیسو یوتھ الائنس کے رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے لاپتہ پیاروں کی طویل جبری گمشدگی کی وجہ سے شدید زہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہے دیگر لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ عید کے بابرکت دن کے موقع پر کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں احتجاج کرکے اور اپیل کررہے ہیں کہ انہیں انکے لاپتہ پیاروں کے حوالے معلومات فراہم کرکے زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائی جائے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ دیکھائی نہیں دے رہے ہیں اور وہ عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے اپنے مفادات کی جنگ میں پھسے ہوئیہیں جس کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں اور لوگوں کا عدلیہ اور حکومت سے اعتماد اٹھ رہا جو ملک کے لیے نیک شکون نہیں ہیں مقریرین نے کہا کہ ان حالات میں حکومت، عدلیہ اور ملکی اداروں کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور آئین میں دیے گیے عوام کی حقوق کی تحفظ کو یقینی بنائے اور فوری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائے، جو لاپتہ افراد اس دنیا میں نہیں ہے انکے اہلخانہ کو بتایا ہے جن پر الزام ہے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں بند کیاجائے، ماہل بلوچ کو رہا اور جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ملکی قوانین کے تحت حل کرکے اہل بلوچستان میں پہلی ہوئی بیچینی کو ختم کرے۔ دراثنا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے وی بی ایم پی کے عید کے روز ہونے والے احتجاج میں شرکت کرنے پر بلوچستان نشنل پارٹی، نشنل پارٹی، بی ایس او (پجار)، بی ایس او، کوئٹہ بار، بلوچ وطن پارٹی، پیپلز یوتھ الائنس، بلوچ یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اور پروگریسو یوتھ الائنس کے رہنماوں اور کارکنوں سمیت دیگرمکاتب فکر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتیہوئے کہا سیاسی و طلباء تنظیمیں اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ احتجاج میں کثیر تعداد میں شرکت کرکے لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کی اور انکے آواز بنے


