امروں نے آئین کو بوٹوں تلے روند دیا،کیا کسی ایک امر کو بھی ہم انصاف کے کٹہرے میں لائے؟سرداراختر مینگل
اسلام آباد:جمعرات کو قومی اسمبلی کے جاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئین کے بننے سے آج تک اس کی کیا حالت کردی گئی ہے،امروں نے آئین کو بوٹوں تلے روند دیا،کیا کسی ایک امر کو بھی ہم انصاف کے کٹہرے میں لائے،کیا ہم نے جنرل سے سپاہی تک کسی سے پوچھا کے آئین سے کیوں کھلواڑ کیاجب ہمیں ضرورت پڑتی ہے تو آئین یاد اتاہے،جب ضرورت ہوتی ہے تو بلوچستان یاد آجاتا ہے اور حکمران بلوچستان کے لئے آنسو بہاتے ہیں،اس آئین کے تحت فوجی اور دیگر اداروں کے ملازم حلف اٹھاتے ہیں،کوئی ٹریفک سگنل توڑ دے تو اسے جرمانہ کیا جاتا ہے مگر آئین کی خلاف ورزی پر سزا نہیں ملتی،بلاول بھٹو ،بینظیر بھٹو اور میں اپنے والد سردار عطا اللہ مینگل کی جگہ نہیں لے سکتا،ان بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت آج ہمیں پہچانا جاتا ہے،ہمارے ملک میں تین مارشلا لگے اور ایک مارشلا نے ملک کا بڑا حصہ گنوا دیا،ایک آمر نے کہا کہ وہاں ماریں گے جہاں پتہ بھی نہیں چلے گا،ہم آپ اور ملک کی عدلیہ نے اس امر کے غیر آئینی عمل کو سٹیمپ لگا کر آئین کی شکل کردی،کسی نے یہ دریافت نہیں کیا کہ عدلیہ نے کس بنیاد پر غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی،بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن بنایا گیا،لاپتہ افراد کے لواحقین،بچوں اور عورتوں نے کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا،ان مظلوم افراد کی آواز پر کسی نے کان نہ دھرے اور نہ ایکشن لیا،لوگوں کو امید تھی کہ کمیشن لاپتہ افراد بازیاب کرائے گا،ایک لاپتا شخص کے والد میں کوئٹہ انے کے لئے گھر کا سامان بیچا۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز کو استحقاق کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے،ہم وزیراعظم میاں شہباز شریف کیساتھ اور پارلیمنٹ کیساتھ کھڑے ہیں،مذاکرات فتنوں سے نہیں ہوتے ،فتنوں کا ہمیشہ سر کچلا جاتا ہے ،کاش وزیراعظم ان سے مذاکرات کے بجائے ان کی زبان میں جواب دیتے ،کوئی وزیراعظم پر اعتراض کرتا ہے تو دیکھ لے آج بھی اکثریت میاں شہباز شریف کے پاس ہے۔


