حکومت کی جامعہ بلوچستان کو 72کروڑ روپے دینے کی یقین دہانی

کوئٹہ(یو این اے )جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کا ایک اہم اجلاس زیرصدارت شاہ علی بگٹی منعقد ھوا جس میں پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ اور تینوں ایسوسی ایشنز کے تمام کابینہ ممبران نے شرکت کی، اجلاس میں جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کے مستقل حل، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی، آفیسران و ملازمین کی پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی فراہمی کے حوالے سے غور وخوص ھوا اور اس بابت گورنر بلوچستان سے مسلسل رابطے اور گذشتہ دنوں گورنر بلوچستان کی دعوت پر ملاقاتوں، صوبائی حکومت کی جانب سے جامعہ بلوچستان کو 72 کروڑ روپے کی فوری مالی امداد کے حوالے سے یقین دہانی اور یونیورسٹی آف بلوچستان کی درخواست پر جامعہ کی انتظامیہ سے جاری مذاکرات کے پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی غور وخوص ھوا، اجلاس میں فیصلہ ھوا کہ سوموار 8 مئی کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بڑا جلسہ ھوگا اور صوبائی حکومت کی جانب سے 72 کروڑ روپے کی فراہمی کی یقین دہانی کی عملداری اور جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی مذاکرات میں طے شدہ پوائنٹس کی نوٹیفکیشن کی اجرا کے بعد کا جائزہ لیکرجاری تالہ بندی اور ٹرانسپورٹ کی بندش اور تحریک کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا ۔ اجلاس میں کہا گیااکہ اساتذہ کرام اور ملازمین کی تنخواہوں اور مالی بحران کا مستقل حل نکالنا صوبائی و مرکزی حکومت کی بینادی ذمہ داری ہے۔۔ اجلاس میں واضح کیا کہ جامعہ بلوچستان کی مالی بحران کا واحد حل یہی ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر جامعہ بلوچستان کےلئے 2 ارب اور مرکزی حکومت 3 ارب روپے کا بیل آٹ پیکیج فراہم کریں اور انے والے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت 10 ارب روپے گرانٹس ان ایڈز اور مرکزی حکومت 500 ارب روپے ملک بھر کی جامعات کے لئے مختص کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں