پاکستان کا نائن الیون
تحریر: انور ساجدی
9 مئی کو ہونے والے واقعات کو پاکستان کا یا فوج کا ” نائن الیون“ قرار دے رہے ہیں، بدقسمتی سے گزشتہ دو عشروں سے بلوچستان میں آئین کا اطلاق نہیں، خصوصی قوانین کی ساری افتاد بلوچستان کے لوگوں پر پڑے گی
جو لگائی بجھائی کرنے والے عناصر ہیں وہ 9 مئی کو ہونے والے واقعات کو پاکستان کا یا فوج کا ” نائن الیون“ قرار دے رہے ہیں۔ ایسی باتوں کا مقصد ریاستی اداروں کو سخت اشتعال میں لانا ہے تاکہ 9 مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو سخت ترین گرفت میں لایا جائے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ تحریک انصاف سے جو کہ 9 مئی تک ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی چند دنوں کے دوران اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوچکی ہے۔ بارش کے پہلے قطرے کے طور پر کراچی سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی اے کے ایم این اے مولوی محمود نے پارٹی سے استعفیٰ کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے بعد کئی دیگر لوگ بھی ان کی پیروی کریں گے۔
عمران خان کی طرف سے پہلی غلطی یہ ہوئی کہ وہ اپنی جماعت کے ” ریڈ لائن“ ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تو پی ٹی آئی اے کے لیڈروں اور کارکنوں نے آپے سے باہر ہو کر چن چن کر جی ایچ کیو سمیت کئی درجن فوجی تنصیبات اور عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ یہ وہ جسارت ہے جو آج تک کسی لیڈر اور جماعت نے نہیں کی تھی کیونکہ جی ایچ کیو طاقت کا مرکز اور فوج کا مقدس مقام ہے۔ جنرل کیانی کے دور میں ٹی ٹی پی نے اس پر حملہ کیا تھا جو دو روز تک جاری رہا تھا۔ اس کے علاوہ کبھی کسی جماعت یا گروپ نے اس پر حملہ کی جسارت نہیں کی۔ چنانچہ ان واقعات پر فوجی قیادت کا جذبات میں آنا قدرتی بات ہے۔ چنانچہ تب سے غور ہورہا ہے کہ اپنے ہی باغی بچہ عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا، کیا جائے۔ اس ضمن میں مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کو نیپ کی طرح کالعدم قرار دیا جائے گا۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر آرمی ایکٹ جبکہ ان کے سہولت کار سرکاری ملازمین کے خلاف سیکرٹ آفیشل ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں کابینہ اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں بھی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نواز شریف کے گزشتہ دور میں پارلیمنٹ نے تخریب کاری روکنے کے لئے سرسری سماعت کی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی لیکن ان عدالتوں کی معیاد 2021 میں ختم ہوگئی تھی۔ اس سلسلے میں دورائے ہیں ، تحریک انصاف کے حامی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ سویلین افراد پر آرمی ایکٹ لاگو کیا جائے۔ حکومتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیں جن میں سویلین افراد پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک کورٹ مارشل لاءکا تعلق ہے اگر کوئی شہری یا شخصیت حساس قسم کے ریاستی راز افشا کرے یا دشمن کو یہ راز دینے کا ارتکاب کرے تو ان کا کورٹ مارشل کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پختونخوا کے ایک شہری ادریس پر کورٹ مارشل مقدمہ چلایا گیا تھا۔ غالباً ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بھی ایسی ہی سماعت مین سزا دی گئی تھی۔ آثار بتا رہے ہیں کہ حکومت پر سخت دباﺅ ہے کہ عمران خان کو درس عبرت بنایا جائے لیکن مشکل یہ ہے کہ سرسری سماعت کی عدالتوں یا کورٹ مارشل کی سزاﺅں کو دینا تسلیم نہیں کرتی اگر پاکستان میں ایسا ہوا تو بین الاقوامی برادری کا سخت ردعمل سامنے آئے گا اور ساری دنیا میں بدنامی ہوگی۔ لہٰذا جو غیر جانبدار ماہرین قانون ہیں ان کا کہنا ہے کہ مقدمات نارمل کریمنل پروسیجر کے تحت چلائے جانے چاہئیں تاکہ یہ تاثر قائم نہ ہو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا ملزمان کو مروجہ انصاف سے محروم کیا گیا ہے۔
اس سارے قضیہ میں پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جو توہین پارلیمنٹ کا قانون کہلائے گا اس کے تحت جو لوگ پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ہوں گے انہیں 6 ماہ قید اور ایک کروڑ روپیہ جرمانے کی سزا دی جاسکی گی۔ حکومت نے یہ اس لئے منظور کیا ہے کیونکہ اسے سپریم کورٹ کی توہین کے مسئلہ کا سامنا ہے۔ یعنی یہ اقدام توہین عدالت بمقابلہ توہین پارلیمنٹ ہے۔ یعنی اگر چیف جسٹس نے وزیراعظم یا دیگر شخصیات پر توہین عدالت کا جرم نافذ کردیا تو جوابی طور پر پارلیمنٹ چیف جسٹس کے خلاف جوابی کارروائی کرسکے گی۔ یہ جو بھی عمل ہے یہ اداروں کے درمیان جنگ کا ردعمل ہے۔ یہ جنگ پی ٹی آئی اے کے چیئرمین عمران خان کی وجہ سے شروع ہوئی ہے۔ اگرچہ عمران خان اداروں کی سرپرستی اور سہولت کاری کی وجہ سے اقتدار میں آئے تھے لیکن معزولی کے بعد انہوں نے عوام کی حقیقی آزادی، آئین اور سویلین بالادستی کا نعرہ لگایا اسی دوران وہ مسلسل بنیادی انسانی حقوق پر زور دیتے رہے ہیں۔ چند روز قبل جب عمران خان گرفتار ہوئے تو تحریک انصاف کے کارکنوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ۔ انہوں نے تقریباً آدھے ملک میں جلاﺅ، گھیراﺅ کیا، اس صورتحال نے ناصرف حکومت کی رٹ ختم کردی بلکہ پاکستانی فوج کو بھی مشکل صورتحال سے دوچار کردیا۔ اسی دوران تحریک انصاف کے ملک بھر میں چار ہزار کارکنوں اور کئی درجن رہنماﺅں کو گرفتار کرلیا، ان لوگوں نے دوران تفتیش اپنے جرم کا عتراف کیا اور یہ بیان حلفی بھی ریکارڈ کئے گئے کہ انہوں نے کیسے اور کس کے کہنے پر گھراﺅ ، جلاﺅ کیا۔ چنانچہ آئندہ ایک ہفتہ میں عمران خان سمیت تمام گرفتار شدگان پر آرمی ایکٹ اور تخریب کاری کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ۔اگرچہ عمران خان کو عدالتوں کی جانب سے متعدد مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے اس کے باوجود حکومت کا ارادہ ہے کہ عمران خان کو دوبارہ گرفتار کیا جائے۔ خان صاحب نے دو روز قبل کہا تھا کہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو ویسا ہی ردعمل آئے گا جو 9 مئی کو آیا تھا لیکن اس بیان کے باوجود تحریک انصاف کے اندر حسب توقع ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ عمران خان کو اندازہ ہے کہ وہ بہت ہی بڑی مشکل میں گھر چکے ہیں۔ ان کی جماعت میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ حکومت اور اداروں سے جنگ لڑ سکے۔ اگر اس کے باوجود وہ مزاحمت پر اتر آئے تو اس سے ملک میں ایک ناگفتہ بہ صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ عمران خان کو جہاں سے امداد اور مدد کی توقع تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
نیپ پر جب پابندی لگی تھی تو اس کی فوری وجہ صوبہ سرحد کے گورنر حیات محمد شیر پاﺅ کا بم دھماکہ میں قتل تھا جو 1975ءمیں پشاور یونیورسٹی میں ہوا تھا۔ اس وقت بلوچستان میں شدید مزاحمت جاری تھی اس لئے حکومت کے پاس بہت کچھ مواد تھا لیکن اس کے باوجود حکومت حیدر آباد سازش کیس میں الزامات ثابت نہ کرسکی تاوقتیکہ بھٹو کا تختہ الٹ گیا اور جنرل ضیاءالحق نے 5فروری 1978ءمیں تمام رہنماﺅں کو باعزت رہا کردیا۔ لہذا اگر اعلیٰ عدالتوں نے کمزوری نہیں دکھائی تو عمران خان پر بغاوت، تخریب کاری اور غداری کے الزامات ثابت کرنا مشکل ہوگا۔ چنانچہ ابتدائی مصائب اور قیدوبند کے بعد جب بھی انتخابات ہوئے یا حکومت تبدیل ہوئی تو ان مقدمات کا بھی وہی حشر ہوگا جو نیپ کی قیادت کے خلاف مقدمات کا ہوا تھا۔
جہاں تک کسی جماعت کو خلاف قانون قرار دی کر اس پر پابندی عائد کرنے کا تعلق ہے تو یہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا تمام ملزمان کو فیئر ٹرائل کا موقع دینا ضروری ہے۔ ریاست اس وقت جس سیاسی و معاشی بحرانوں کا شکار ہے اس صورتحال میں خصوصی قوانین کی ساری افتاد بلوچستان کے لوگوں پر پڑے گی۔ کیونکہ بلوچستان پہلے سے ناروا سلوک کا شکار ہے، بدقسمتی سے گزشتہ دو عشروں سے بلوچستان میں آئین کا اطلاق نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کو انسان کی بجائے کوئی اور مخلوق سمجھ کر آئین میں ودیعت کردہ تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ اگر انصاف سے ماوریٰ سزائیں شروع ہوگئیں تو سب سے زیادہ زد مےں بلوچستان کے لوگ آئیں گے کیونکہ ان کی کوئی سیاسی حما یت نہےں ہے نہ ہی عدالتوں نے کبھی ان کے بنیادی انسانی حقوق کا نوٹس لیا ہے۔
بہرحال جو بھی صورتحال ہے اس کی وجہ سے ریاست اور اس کی حکومت اور ادارے بڑی آزمائش سے دوچار ہیں۔ اگر حکومت نے آئین سے ماوریٰ اقدامات کئے تو ریاست کو استحکام ملنے کی بجائے نقصان ہوگا۔ ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ عام انتخابات التواءکا شکار ہوجائےں گے اور حکومت کو قانونی جنگ لڑتے لڑتے ایمرجنسی کے نفاذ کا سہارا لینا پڑے گا۔ بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف کے خلاف عام ملکی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور بلوچستان کے جو نوجوان عقوبت خانوں میں غیر قانونی سزائیں بھگت رہے ہیں ان کو بھی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم کیا جائے۔ ریاست کے حق میں یہی بہتر ہے۔


