عمران خان پس پردہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ٹھیک کرنے کوششوں میں مصروف
اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پس پردہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان بظاہر کشتیاں جلائے بیٹھے ہیں لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے کوئی آسرا بھی ملتا ہے تو اس جانب لپک رہے ہیں۔بیک ڈور ڈپلومیسی کی تازہ ترین کوشش کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق معروف تاجر، سرمایہ دار عقیل کریم ڈھیڈی نے پندرہ مئی کو زمان پارک میں عمران خان سے ملاقات کی اور اسٹیبلشمنٹ سے معاملات بہتر کروانے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں جنہیں زمان پارک نے فوری طور پر یہ کام سرانجام دینے کا ٹاسک سونپ دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں عقیل کریم ڈھیڈی، جو مبینہ طور پر عمران خان کی مالی معاونت کرنے والے بڑے ناموں میں شامل ہیں، نے تین نکات پر اپنی خدمات پیش کیں۔آفر کا پہلا حصہ، اسٹیبلشمنٹ کا 9 مئی واقعات پر ردعمل و غصہ کنٹرول کروانا، صلح کے بنیادی اقدامات کے بعد عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کروا کر نئے سرے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شروعات کروانا۔اس آفر کا دوسرا حصہ،عمران خان کے اعلان کردہ جلسوں کے شیڈول و سیاسی مہم کے اخراجات اٹھان اور تیسرا حصہ، اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرنے کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں موجود ذاتی و کاروباری روابط کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے نتیجہ خیز مذاکرات کروانا ہے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور اگر مگر کے عقیل کریم ڈھیڈی کو گرین سگنل دیدیا کہ اس سے اچھا کیا ہو سکتا ہے۔ عقیل ڈھیڈی کو زمان پارک سے یہ روایتی یقین دہانی بھی کروا دی گئی کہ اگر اس مشن میں وہ کامیاب ہوتے ہیں تو عقیل کریم ڈھیڈی آئندہ عمران خان کی حکومتی مشینری کا مرکزی کردار ہو گا۔تاہم ذرائع کے مطابق عقیل کریم ڈھیڈی کی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان، اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نئی ڈیل کرانے کی گارنٹی دینے والے عقیل کریم ڈھیڈی کو پنڈی سے شٹ اپ کال ملی ہے اور واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی معافی تلافی، ڈیل، صلح کی بات ممکن نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی کردار پر اب قطعا آمادہ نہیں ہے۔ معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو ڈیل کرانے کی پیشکش کرانے والے عقیل کریم ڈھیڈی کی باقاعدہ کھچائی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے آئندہ ایسی حماقت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر شروع قانونی کارروائی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے کمپرومائز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


