پسنی، محکمہ پبلک ہیلتھ کی چشم پوشی اور شاہ خرچیاں، لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے

گوادر : پسنی میں محکمہ پبلک ہیلتھ کی ڈیزل کی مد میں شہ خرچیاں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ، کوکونٹ پمپنگ اسٹیشن سے سالاچ تک بجلی کے دس سے پندرہ پول ڈیزل کی مد میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان سے بچا سکتی ہے جبکہ پبلک ہیلتھ کے اعلیٰ افسران کی چشم پوشی سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان کا سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پسنی شہر کو بذریعہ زرعی چینل سے شادی کور ڈیم سے پانی سپلائی کی جا رہی ہے، چینل سے پانی کوکونٹ سپلائی اسٹیشن میں اسٹور ہوکر ڈیزل پمپنگ اسٹیشن کے ذریعے سے شہر کو سپلائی کی جاتی ہے اگر دیکھا جائے سالاچ جہاں سے پسنی فش ہاربر اتھارٹی کو سپلائی کرنیوالے پمپنگ اسٹیشن تک بجلی کے پول بچائے گئے ہیں جن سے ایک اندازے کے مطابق بجلی کے دس سے پندرہ بجلی کے کھمبوں کی بچھائی سے کوکونٹ فارم ڈیزل سپلائی اسٹیشن کرنے والے ڈیزل پمپنگ اسٹیشن سے چھٹکارا حاصل کرکے سرکاری خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا فائدہ دی جا سکتی ہے لیکن پمپنگ اسٹیشن تک بجلی کے کھمبوں کی بچائی نہ ہونے سے ڈیزل کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے ضائع کئے جا رہے ہیں اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران کی چشم پوشی سے سرکاری خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے واضح رہے کہ گزشتہ ایک مہینے سے پسنی شہر کے مختلف علاقوں وارڈوں سے تعلق رکھنے والے شہری پانی کی شدید قلت و بحران کا رونا رو رہے ہیں جبکہ متعلقہ محکمے کے افسران ٹھس سے مس نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں