خضدار میں یو این وومن اور ترقی فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام خواتین کے تحفظ اور مسائل پر تقریب کا انعقاد

خضدار (انتخاب نیوز) گھریلو و ملازم پیشہ خواتین کی تحفظ کے لیے UN Women و ترقی فاﺅنڈیشن کی جانب سے تقریب کا انعقاد، خواتین کی تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں باہمی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق۔ یو این وومن اور ترقی فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے شہید بے نظیر بھٹو وومن سینٹر خضدار میں خواتین کی ہراسگی اور سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ایک مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ایس ایس پی خضدار فہد خان کھوسہ، یو این وومن و ترقی فاﺅنڈیشن کے نمائندہ انور زیب، شہید بے نظیر بھٹو وومن سینٹر کے منیجر میڈم روبینہ کریم، وومن سیل محکمہ پولیس خضدار کی انچارج شائستہ زہری، رخسانہ ساسولی، خضدار پریس کلب کے ممبران دانش مینگل، سید ثنا اللہ شاہ، مجیب زیب، وسیم امور اور حال ہی میں پولیس میں بھرتی ہونے والی لیڈی پولیس کانسٹیبلز، لاءکالج خضدار کے طالبات اور مختلف ادارواں میں کام کرنے والی خواتین نے شرکت کی۔ تقریب میں یو این وومن و ترقی فاﺅنڈیشن کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات، ہراسمنٹ کی صورت میں قانونی مشاورت، معاونت اور انصاف کی فراہمی کے لیے حکومتی و غیر سرکاری اداروں سے متعلق شرکاءکو آگہی دی گئی۔ اس موقع پر ایس ایس پی خضدار نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا عورت کی آزادی کم عمری میں شادی گھروں سے نکلنے پر بے جا پابندی جیسے ماحول میں رہ کر عورت کی صلاحتیوں کو مفلوج کردیتی ہے، ہمیں عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایڈووکیٹ سرور رئیسانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو حقوق تو دیے جاتے ہیں مگر وقت آنے پر ان کے حقوق مسخ کردیئے جاتے ہیں جو بلاشبہ ہمارے معاشرے کیلئے المیہ ہے، ہمیں ملکر حقوق نسواں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرنا چاہیے۔ میڈم روبینہ کریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے تحفظ کیلئے باقاعدہ پولیس سے باقی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ سیل قائم ہیں، چار سینئر وکیل بھی موجود ہیں، قانونی مشاورت اور فوری تحفظات کیلئے اقدامات ہوں اگر کسی کے پاس سورس نہ ہو یا پیسے نہ ہوں یا کسی اور قسم کی مشکلات کا سامنا ہو ہم ہر طرح کے تعاون فراہم کرتے ہیں۔ پریس کلب خضدار کے سینئر نائب صدر دانش مینگل نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مرد و عورت دونوں کے حقوق برابر رکھنے چاہیے، الحمد للہ ہمارا معاشرہ قبائلی ہے، اسلامی اور بلوچی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں دونوں جانب دیکھنا ہوگا، عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی ہے، بہن بھی اور بیوی بھی اس لیے ہمیں معاملات کو بیلنس کرتے ہوئے آگے جانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں