پانامہ کیس میں تمام 436 افراد کا احتساب چاہتے ہیں، سراج الحق
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامالیکس کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ عدالت کا نامکمل فیصلہ ہے سپریم کورٹ میں زیر سماعت پانامہ کیس میں تمام 436 افراد کا احتساب چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہماری پہلے دن سے ایک ہی استدعا ہے احتساب سلیکٹڈ نہیں بلکہ سب کا ہو، ہم 4 سال سے کیس کیں جلد سماعت کیلئے درخواستیں دیتے رہے ہیں۔ عدالت ہم سے پوچھتی ہے متعلقہ اداروں میں پانامہ افراد کیخلاف درخواستیں کیوں نہ دیں۔ جب کیس عدالت میں زیر سماعت ہے پھر متعلقہ اداروں میں درخواستیں کیسے دی جا سکتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ عدالت نے ہماری استدعا مان لی۔کیس جب عدالت میں زیر سماعت ہے پھر متعلقہ اداروں میں الگ درخواستیں عدالت کے دائرہ اختیار میں مداخلت ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ 436افراد کے خلاف الگ الگ درخواستیں متعلقہ اداروں میں دینے سے 436 سال لگ جائیں گے۔ ہم نے عدالت کا دروازہ 23کروڑ عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف کھٹکھٹایا۔ نیب، ایف آئی اے ہو یا اینٹی کرپشن سب حکومت کی جیب کی گھڑی ثابت ہوئے ہیں۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم عدالت سے سوال کرتے ہیں ان اداروں سے آج تک کسی ایک مجرم کو سزا دی۔ قوم کے پیسے پر چلنے والے ادارے کرپشن پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔عدالت سے استدعا کرتے ہیں ملکی دولت لوٹنے والے 436 افراد کا احتساب کیا جائے۔امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان کا کہناتھا کہ پانامہ لیکس بینچ کے 2 ججز چیف جسٹس بنے مگر انہوں نے کچھ نہ کیا۔سراج الحق نے کہا کہ کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پانامہ لیکس میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا، جماعتِ اسلامی نے اس پر سب سے پہلے کارروائی کی درخواست کی تھی لیکن افسوس کہ صرف 1 فرد کے خلاف فیصلہ ہوا، پانامہ لیکس میں ملوث 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ملک میں احتساب کے ادارے کیا کر رہے ہیں؟ ایف آئی اے، نیب اور دیگر اداروں نے کیا کام کیا؟امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہوجاتے ہیں، البتہ اپوزیشن کے خلاف تمام ادارے تیز ہو جاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ آج عوام کے حقوق لینے سپریم کورٹ میں حاضر ہوئے ہیں، چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فرض پورا کرے۔سراج الحق کا یہ بھی کہنا ہے کہ امید کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف ملے گا، اس دفعہ بھی پانامہ لیکس کیس کے لیے ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔


