پسنی میں بے امنی کا خاتمہ، آنل کلمتی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، بلوچ جسٹس فورم کا احتجاجی مظاہرہ

گوادر (این این آئی) پسنی میں بد امنی،آنل کلمتی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری و دیگر جملہ مسائل پر بلوچ جسٹس فورم کا احتجاجی مظاہرہ ، مظاہرین سے بلوچ جسٹس فورم سے کے سربراہ عبدالرسول بلوچ اور ملا زاکر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پسنی شہر کو چوروں، ڈکیتوں، منشیات فروش اور قاتلوں کے رحم کرم پر چھوڑا گیا ہے، پسنی میں منشیات عام ہے اور آئے روز ڈکیتی اور رہزنی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے باوجود پسنی پولیس کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا آنل کلمتی جیسے نوجوان کو قتل کیا جاتا ہے مگر آج ایک مہینے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود پسنی پولیس قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکا جس سے واضح ہوتا ہے کہ قاتل بااثر ہیں اور انہیں سرکاری پشت و پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسنی میں بدامنی کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے ہیں کہ جنہوں نے تمام تر انتظامی اداروں میں اپنے منظور نظر افسران تعینات کیے ہیں جنکی نااہلی ہم سب پر عیاں ہے باوجود کہ انکے خلاف کسی بھی قسم کی محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ مقررین نے کہا کہ پسنی واپڈا کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو ذہنی اذیت سے دچار کیا ہوا ہے اگر واپڈا نے 6 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم نہیں کیا تو اگلے ہفتے واپڈا آفس کے سامنے دھرنا دیکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرینگے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پسنی شہر میں امن قائم کرنے کے لیئے قربانیاں دی ہیں، نہ ہمیں پہلے قبول تھا اور نہ ہی آئندہ قبول ہوگا کہ پسنی شہر میں ایک مرتبہ پھر چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہو۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ چکی اور ہم آج بھی پانی اور بجلی جیسی انسانی بنیادی سہولیات کے لیے ذہنی ازیت کا شکار ہیں اور ہر روز سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اگر چاہے تو چوروں، ڈکیتوں اور قاتلوں کو 24 گھنٹے کے اندر بھی دھر سکتی ہے لیکن پسنی کو انتظامی حوالے سے اس قدر لاوارث چھوڑا گیا کہ آج ہمارے چور بھی نامعلوم ہیں اور ہمارے رہزن و قاتل بھی نامعلوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج پسنی میں انتظامیہ اور عوامی نمائندے ہوتے تو پسنی شہرِ نا پرسان حال نہ ہوتا۔ عوامی نمائندوں کو شہریوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں اور یہ نام نہاد عوامی نمائندے عوام کو بس اپنے ووٹ و ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے لیئے باعث ندامت ہے کہ وہی منشیات فروش جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہے ہیں، اپنی سیٹ ایڈجسٹمنٹ و ذاتی مفادت کے خاطر انہیں بلدیاتی سیٹ اپ سے لیکر اسمبلیوں تک پہنچا رہے ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بے روزگاری عام ہے تو دوسری جانب ملازمتیں فروخت ہورہی ہیں، اگر آپ واقعی میں پسنی کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ان استحصالی مسلط قوتوں کیخلاف متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں