مینوفیکچرنگ پاکستان کے لئے ایک ترجیحی شعبہ ہے،مسعودخان
واشنگٹن (صباح نیوز) امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ مینوفیکچرنگ پاکستان کے لئے ایک ترجیحی شعبہ ہے، پاکستان مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو معیشت کے اہم جزو ہے۔ یہ باتیں امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں معروف امریکی ڈیپارٹمنٹل سٹور جے سی پینی کے سینئر وائس پریذیڈنٹ وائن میلانو سے ملاقات کے دوران کہیں۔ جے سی پینی کی حکومتی امور کی سربراہ انجیلا مارشل ہوفمین اور شمولیت اور تنوع کی سربراہ شینیس جانز بھی موجود تھیں۔مسعود خان نے پاکستانی سپلائرز پر اعتماد کا اظہار کرنے پر سینئر نائب صدر وائن میلانو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو معیشت کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ پاکستان کے لئے ایک ترجیحی شعبہ ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہم نے مینوفیکچرنگ کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا ہے،ہم نے 50 کی دہائی کے آخر میں مینوفیکچرنگ شروع کی جو 60 کی دہائی میں پروان چڑھی اور ہماری معیشت کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے ۔حالیہ ماضی میں کووڈ، قدرتی آفات اور معاشی صورتحال کی وجہ سے ہماری مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچا ہے لیکن صنعتی شعبہ واپس اپنی جگہ پر آ رہا ہے ۔ یہ دوبارہ پروان چڑھ رہا ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ جے سی پینی جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ساتھ مضبوط شراکت داری پاکستانی تاجروں کی مہارت میں اضافہ اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنانے میں مدد دے گی ۔سفیر پاکستان مسعود خان نے جے سی پینی کے وفد کو یقین دلایا کہ سفارت خانہ وزارت تجارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کو مزید فروغ دینے میں جے سی پینی کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔اس موقع پر معروف امریکی ڈیپارٹمنٹل سٹور جے سی پینی کے سینئر وائس پریذیڈنٹ وائن میلانو نے کہا ہے کہ پاکستان جے سی پینی کا دوسرا بڑا سپلائر ہے۔ ماحولیات سے موافقت، مصنوعات کی شناخت (ٹریس ایبلٹی)، شمولیت اور تنوع جیسی خصوصیات پاکستانی سپلائرز کی قوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سپلائرز کی نئی نسل اپنی اختراع، سمجھ بوجھ اور کاروبار پر مبنی مہارتوں کے طفیل بہتر کام کر رہی ہے۔وائن میلانو نے کہاکہ پاکستانی سپلائرز کو نہ صرف کاروبار کے مواقع مل رہے ہیں بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کی بدولت یہ مواقع خود حاصل کر رہے ہیں۔ جے سی پینی کے وائس پریذیڈنٹ نے کہا کہ پاکستانی نوجوان ڈییزائننگ ، تخلیق ، انفراسٹرکچر، صلاحیت اور کاروباری صلاحیتوں کی بدولت اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے کسی بھی قسم کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے جے سی پینی کے نائب صدر نے کہا کہ اس وقت کمپنی کو پاکستان میں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں ۔ کاروباری لاگت، معیار اور ترسیل سب بہت مسابقتی ہیں۔پاکستان کے نوجوان کی کاروباری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے وائن میلانو نے کہا کہ نئی نسل نے جدید نظریات کے ساتھ مارکیٹ میں قدم رکھا ہے، مارکیٹ کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ ، کسٹمر مینجمنٹ کی مہارت اور دنیا بھر کی مارکیٹوں تک رسائی انہیں اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دے رہی ہے۔


