حکومت سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد ٹی ایل پی کا پاکستان بچاﺅ مارچ ختم کرنیکا اعلان

اسلام آباد (صباح نیوز) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے کے بعد پاکستان بچا ﺅمارچ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں رہنما تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)شفیق امینی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگ ایسے قبیح فعل میں ملوث ہیں جس سے مسلمانوں کے ناموس رسالتﷺ سے متعلق جذبات مجروح ہوتے ہیں، ہم نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ ممکن بنانے کے لیے کچھ طریقہ کار طے کئے ہیں ،ان اقدامات کے اٹھانے سے گستاخ رسول کو روکا جاسکتا ہے، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر سزا دی جاسکتی ہے، کافی غور کے بعد اتفاق رائے سے ہم ایک طریقہ کار پر پہنچے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں حکومت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ٹی ایل پی کے زعما ءہوں گے جو ان چیزوں کا جائزہ لیں گے اور تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنائیں گے، اللہ اس مقدس کام میں ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے سے ہر پاکستانی کا جذباتی لگاﺅہے، ان کی طویل قید پر ہر کوئی افسردہ اور غمزدہ ہے، حال ہی میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی عافیہ صدیقی سے ملاقات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ اس حوالے سے بھی اتفاق رائے ہوا ہے کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر حکومت پہلے سے جو سنجیدہ کوششیں کررہی ہے ان میں مزید بہتری لائی جائے، حکومت اس حوالے سے خط لکھے اور پوری دنیا بالخصوص امریکا کے سامنے اس معاملے کو اٹھائے۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا، حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کےلئے مزید اقدامات کرے گی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86سالہ کی سزا دنیا انصاف کے منافی ہے ۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ہمارے ٹی ایل پی کے دوستوں کا پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ تھا، یہ ایک عوامی مسئلہ ہے، ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ غریب آدمی کو ریلیف ملے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پٹرول کی قیمتیں مقرر کرنے کا سارا طریقہ کار ہمارے ان دوستوں کے سامنے رکھا اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ آنے والے دنوں میں ان قیمتوں میں واضح کمی لانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹی ایل پی کے دوستوں کا تدبر ہے کہ انہوں نے ہمارے موقف کو سمجھا اور ان معاملات کوپرامن طریقے سے حل کرنے کی اور اپنے احتجاج کو ختم کرنے کی حامی بھری، ہم نے خلوص دل سے کوشش کی کہ ان کے جذبات کو سمجھیں۔انہوںنے کہا کہ پچھلی حکومت میں انہی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ملک میں بدامنی ہوئی اور دونوں طرف سے جانی نقصان نہیں ہوا۔اس موقع پر رہنما ٹی ایل پی شفیق امینی نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے جن میں سب سے پہلے تحفظِ ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت کا معاملہ تھا، عافیہ صدیقی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت کمر توڑ مہنگائی کا معاملہ بھی ہم نے حکومت کے سامنے رکھا۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری ریلی گوجرانوالہ سے آگے پہنچی تو حکومت نے ہم سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، الحمداللہ پرامن طریقے سے حکومت نے بات چیت کے ذریعے ہمارے مطالبات مان لئے۔انہوںنے کہا کہ میں حکومت کا انتہائی مشکور ہوں کہ پرامن طریقے سے حکومت نے ہمارے مطالبات مان لیے، امید ہے کے ماضی کے تلخ تجربات دہرائے نہیں جائیں گے اور جو مطالبات تسلیم کئے گئے ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں