عمران خان کی حکومت کے خاتمہ پر موم بتی مافیا اور اسرائیل رورہا، دجالی فتنے کا خاتمہ کردیاگیا، دوبارہ سرنہیں اٹھا سکتا،مولانا فضل الرحمان

ٹانک(صباح نیوز)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ اورامیر جمعیت علماء اسلام (ف)مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ پر کون سی حکومت رورہی ہے ، موم بتی مافیا رورہا ہے، اسرائیل رورہا ہے، یورپ میں جو اسرائیل نواز لابی ہے وہ رورہی ہے،برطانیہ میں کنزرویٹوفرینڈزآف اسرائیل کے نام سے باقاعدہ ایک تنظیم جسے چیئرمین پی ٹی آئی کا سابق سسرال چلا رہا ہے، امریکی کانگریس میں فرینڈز آف اسرائیل کمیٹی اور ان کے یہودی ہمنوا، آج وہی چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت میں رورہے ہیں۔ آج چیئرمین پی ٹی آئی کا تختہ الٹ دیا گیا اورآنے والے وقت میں اس کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا، اس فتنے کی سرکوبی کردی گئی، دجالی فتنے کا خاتمہ کردیا گیا، دوبارہ اب سرنہیں اٹھا سکتا۔ ان خیالات کااظہار مولانا فضل الرحمان نے ٹانک میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسعد محمود بھی اوردیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے جس حکومت کے خلاف تحریک چلائی، جس حکومت کے خلاف کلمہ حق بلند کیا، جب دنیا کو یقین نہیں آرہا تھا سمجھ رہے تھے کہ ہماری کوئی ذاتی جنگ ہے، ہم کیوں یہ کہہ رہے ہیں کہ ان حکمرانوںکے پاس پاکستان کا ایجنڈا نہیں، ان حکمرانوںکے پاس بیرونی ایجنڈا ہے اور یہودیوں کاایجنڈا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسرائیل جس نے 1996سے لے کر 2020ء تک جنوبی ایشیاء میں اپنا نیٹ ورک اوراپنا اثرورسوخ مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس خطہ میں اپنے اس مقصد کے لئے چیئرمین پی ٹی آئی کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن ان کے اس ایجنڈے اوراس کے اس منصوبہ کے مقابلہ میں جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء کاکارکن صدق سکندری بنا اوراس نے ان کے منصوبے کو پاش پاش کردیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے اس شخصیت کی نشاندہی بھی کی تھی جو پاکستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کرتا ہے ، علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کا معنی پاکستان کو توڑنا لیکن وہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی حمایت کرتا ہے۔ میں نے اس خاتون کا بھی نام لیا تھا جو کو پاکستان دشمنی کی پاداش میں ایئر پورٹ سے واپس ڈی پورٹ کردیا گیا تھاکہ آپ پاکستان میں نہیں آسکتیں وہ خاتون بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت کررہی ہے، پاکستانی میڈیا کے نامور اینکرزباقاعدہ اس پر پروگرام کررہے ہیںاور بتارہے ہیں کہ دنیا میں کون کون لوگ ہیں جو اسرائیل کے حامی ہیں، پاکستان کے دشمن ہیں لیکن چیئرمین پی ٹی آئی کے حامی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تحریک صرف جمعیت کے کارکنان چلارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ایک لمبے عرصہ سے دنیا میں پاکستان کی جوشناخت متعارف کروائی گئی ہے ایک سیکولر پاکستان کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے، ایک لیفٹسٹ پاکستان کا نظریہ پیش کیا جارہا ہے، تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ ملک ِ لاالہ الااللہ کے نعرے اوراسلام کے تصور پر بنا ہی نہیں تھا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگلے الیکشن میں اوراس کے بعد بھی پاکستان کی اسلامی شناخت کودنیا میں متعارف کروایا جائے گا اوراسلام کے علاوہ پاکستان کی کوئی دوسری شنا خت قابل قبول نہیں ہو گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم گومل زام سے براہ راست پینے کا میٹھا پانی ٹانک کو فراہم کریں گے، یہ 100ارب روپے کا منصوبہ ہو گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس صوبہ میں 9سال پی ٹی آئی نے حکومت کی، وفاق میں ساڑھے تین سال حکومت کی ہے، تمام میگا پراجیکٹس فریز کئے گئے، منجمد کردیئے گئے، یہ کون سی حب الوطنی ہے، یہ کون سی عوام سے محبت ہے، کیا کررہے تھے تم لوگ، معنی یہ تھا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام لایا جائے ، پاکستان میں معاشی عدم استحکام لایا جائے، ملک کو زمین بوس کردیا جائے اوراس کے بعد انہوں نے آپ کے دفاعی نظام پر حملہ کرنا تھا تاکہ ملک اورفوج بھی آپس میں لڑے، دفاعی نظام ٹوٹ جائے، ملک کی حفاظت کاآخری حصار بھی ٹوٹ جائے، اختلاف ہم نے بھی کئے لیکن ہم اختلاف کی حدود کو جانتے ہیں، ایک شخص سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ادارے کی ناگزیر حیثیت کاانکار نہیں کیاجاسکتا وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور جمعیت علماء اسلام کا اولین مطالبہ قیام امن کا ہے۔میں آج بھی کہتا ہوں کہ اگر پرامن راستوں سے اس خطہ میں امن لایا جاسکتا ہے تو ہمیں پرامن راستوں کو ترجیح رینی چاہیے، جنگ کبھی مسئلہ کا حل نہیں رہا، جنگ نے دنیا میں کوئی مسئلہ حل نہیں کیا، اس سے مسائل اور بگڑتے رہتے ہیں، آج بھی ہم اس مئوقف کے قائل ہیں تاکہ ترقیاتی کام ہوں، امن نہیں ہوگاتومعیشت تباہ ہو گی اور امن نہیں ہو گاتوترقیاتی کام نہیں ہوں گے۔ ان حالات میں بھی وہ ترقی کا سفر جو رک گیا ہے ہم نے دوبارہ اس سفر کا آغاز کردیا ہے، ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا اور ہم اس پسماندہ علاقہ کے لوگوں کے مستقبل اور ان کی نسلوں کے مستقبل کی خوشحالی کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروے کار لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں