وڈھ میں حالات کشیدہ، مینگل قبیلے کی دو اہم شخصیات ایک دوسرے کیخلاف مورچہ بند

خضدار (انتخاب نیوز) وڈھ کے حالات انتہائی گمبھیر شکل اختیار کرگئے، جنگی لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ مینگل قبیلے کی دو اہم شخصیات ایک دوسرے کیخلاف مورچہ بند۔ دونوں طرف سے جنگ کی تیاریاں جاری، فریقین کی جانب سے خندقیں بنا دی گئیں۔ دوسرے علاقوں سے مسلح افراد کی وڈھ پہنچے کی اطلاعات ہیں۔ وڈھ بازار کے قریبی پہاڑوں اور زمینی راستوں پر مسلح افراد کا مکمل کنٹرول ہے۔ حالات کی خرابی کی وجہ سے وڈھ بازار بند کروا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ رات گئے علمائے کرام نے انتظامیہ اور قبائلی شخصیات پر مشتمل ایک وفد کے ہمراہ وڈھ میں فریقین کی دونوں اہم شخصیات سے ملاقات کی گئی جو بے نتیجہ رہی۔ سردار اختر مینگل سے رات 1 بجے سے صبح 4 بجے تک تفصیلی نشست کی۔ اس موقع پر شفیق الرحمن ودیگر سے بھی رابطہ کیا گیا اور فریقین کو اپنی اپنی حدود میں رہنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی جانب پیش قدمی کرنے سے پابند ہونے کی تاکید کی گئی۔ وفد کی جانب سے حالیہ کشیدگی سمیت مسئلے کے مستقل حل کیلئے اتفاق اور کوششیں مزید تیز کرنے کا عزم کیا گیا۔ وفد میں جمعیت علماءاسلام پاکستان کے بزرگ علماءکرام مولانا قمر الدین، سینیٹر مولانا فیض محمد سمالانی، سردار نصر اللہ خان ساسولی، مولانا عبدالصبور مینگل، حافظ جمیل احمد ابرار شامل تھے۔ بہر حال اس حوالے سے مذکرات بغیر نتیجہ ختم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس حوالے سے بی این پی کی کابینہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وڈھ اور بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قائد بلوچستان سردار اختر جان بلوچ و بلوچستان کی ریڈ لائن ہیں۔ قائد بلوچستان سردار اختر مینگل کیخلاف سوچی سمجھی سازش کے تحت کچھ مسلح افراد کو کھڑا کیا جارہا ہے تاکہ عوام کی آواز کو دبایا جاسکے۔ قائد بلوچستان سردار اختر مینگل ہمیشہ عوام کی آواز بنے ہیں، ایسے چھوٹے لوگ کبھی اس آواز کو دبا نہیں سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں