صوبائی بجٹ میں بلوچستان کی 12 سرکاری جامعات کیلئے گرانٹس ان ایڈز میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، اکیڈمک اسٹاف

کوئٹہ (آن لائن)فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، نائب صدر پروفیسر ارسلان شاہ، جنرل سیکرٹری پروفیسر فرید خان اچکزئی، پروفیسر ہاشم جان کھوسو، ڈاکٹر عبدالرحمن کاکڑ پروفیسر ساجد نبی و کابینہ کے دیگر ممبران نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کی گزشتہ روز پیش ہونے والے سالانہ بجٹ میں صوبے کی تمام 12 سرکاری جامعات کیلئے گرانٹس ان ایڈز میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات خصوصاًجامعہ بلوچستان پہلے ہی سخت مالی بحران کا شکار رہا ہے اور کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں اساتذہ کرام اور ملازمین کو ادا نہیں کی جاتی ہیں نتیجت جامعات میں احتجاج اور ہڑتالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے جامعہ بلوچستان کے ایمپلائز اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ملکر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور فپواسا کے پلیٹ فارم پر بجٹ سے پہلے صوبائی حکومت سے احتجاجی مظاہروں، اخباری بیانات اور دیگر مختلف ذرائع کے ذریعے اپیل کی کہ وہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات کی گرانٹس ان ایڈز میں کم ازکم 10 ارب روپے مختص کریں لیکن صوبائی حکومت نے 750 ارب روپے کی بجٹ میں جامعات کے لئے ایک روپے بھی اضافہ نہ کرکے سخت تعلیم وصوبہ دشمنی کی اور آنے والے سال میں تمام جامعات خاصکر جامعہ بلوچستان سخت مالی بحران کا شکار ھوگا۔ بیان میں صوبے کی جامعات کے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کی اس بابت خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تمام وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کو کھل کر سامنے آنا چاہیے اور وہ صوبائی حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ صوبے کی سرکاری جامعات کے فنڈز میں 10 ارب روپے تک کا اضافہ کرے۔بیان میں اعلان کیا گیا کہ عید کے بعد اس بابت زبردست احتجاجی تحریک دوبارہ چلائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں