یونان کے کوسٹ گارڈز اور حکومت بروقت کارروائی کرتی تو جانیں بچائی جا سکتی تھیں، یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے یونان میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں اور دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یونان کے کوسٹ گارڈز اور ان کی حکومت بروقت کارروائی کرتی تو 750 افراد کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ ہر مذہب سب سے پہلے انسانیت اور انسانی جان بچانے کا حکم دیتا ہے۔یونان کے کوسٹ گارڈز کو بروقت معلوم ہوا تھا کہ پاکستانی اور دیگر ممالک کے افراد بشمول 300 سے زائد پاکستانی اٹلی جانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی حکومت نے بروقت اقدامات نہیں کیے تھے۔ یہ واقعہ اس صدی کا بہت بڑا سانحہ ہے۔ہفتہ کے روز اپنے جاری بیان سید یوسف رضا گیلانی نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ یونان میں ڈوبنے والی کشتی میں 700 سے زائد افراد کی ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور یونانی حکومت اور اس کے ساحلی محافظوں کو چارج شیٹ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں اور گینگ کو گرفتار کرکے انہیں سخت ترین سزا دی جائے تاکہ نوجوانوں کو یورپ جانے کا خواب دکھانے والے سمگلروں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جا سکے تاکہ والدین کے بچوں، بہنوں کے بھائیوں اور بیویوں کے سہاگ نہ اجڑ سکیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونان کی حکومت سے کشتی حادثہ میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی موت کی تحقیقات کریں۔سید یوسف رضا گیلانی نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان سمگلروں کو 25 سے 30 لاکھ دینے کے بجائے اپنے بچوں کو پاکستان میں کاروبار شروع کروائیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وفاقی حکومت یونان میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ڈی این اے کے نمونے فوری طور پر یونان بھیجنے کے انتظامات کرے۔ کشتی سانحہ میں جاں بحق افراد کی ڈیڈ باڈیز کو باضابطہ طور پر پاکستان واپس لانے کے انتظامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں