قمبرانی روڈ میں باپ اور بیٹے کے قتل کا سراغ لگانے والے افسر کو معطل کردیا، پولیس ملزمان کو گرفتا نہیں کرنا چاہتی، اہالیان نوشکی
کوئٹہ (آن لائن) اہلیان گلنگور ضلع نوشکی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 9جولائی2023ءکو صبح سویرے قمبرانی روڈ کیچی تھانے کے قریب ایک بندے سے موٹرسائیکل چھینی گئی اور کلی بڑو سریاب میں اپنے موٹرسائیکل کو جب باپ اور بیٹے نے پہچان لیا تو رہزنوں نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لئے باپ اور بیٹے کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جو ظلم کی انتہاءہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو رہزنوں نے باپ اور بیٹے کو قتل کرکے ہمارے گھر کو اجاڑ کر رکھ دیا جبکہ باقی رہی سہی کسر حکومت وقت خصوصاً پولیس ڈیپارٹمنٹ نے پوری کردی جو کہ رہزنوں سے زیادہ بلوچستان پولیس نے ہمارے اوپر ظلم کے پہاڑ گرا دیا ہے کیونکہ جس آفیسر نے پہلے دن ہی چوروں کا سراغ لگا لیا اسی کو عہدے سے ہٹایا گیا، اس کا جواب ہم کہاں اور کس سے طلب کریں، محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کچھ تو اپنے محکمہ کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرو، عبدالکریم سرپرہ آپ ہی کے محکمہ پولیس سے بطور ہیڈ کانسٹیبل ریٹائرڈ ہوا، اس کے ناحق خون کا حساب اس کے بچیں کس سے مانگیں، ہم متاثرہ خاندان آئی جی پولیس بلوچستان سے سوال کرتے ہیں کہ اب تک قاتل چور گرفتار کیوں نہیں ہوئے، جتنا کام پہلے دن جس پولیس افسر نے کیا اس کو ہٹانے کے بعد اب تک کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سرکل شالکوٹ ڈی ایس پی خلیل بگٹی کو عہدے سے ہٹانے کو ہم اپنے کیس کو سردخانہ میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں، آپ لوگوں سے کس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پولیس کے افسران کو معطل کریں اور کیا اس کا ذمہ دار صرف ایک آفیسر ہے، آیا دیگر آفیسران بری الذمہ ہیں، آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک افسر کو معطل کرکے متاثرہ خاندان کو اپنی نااہلی چھپانے کے لئے جھوٹ پر مبنی تسلی دیں گے لیکن آپ لوگوں یہ عمل ہمارے زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں آپ لوگوں نے ایک ایسے آفیسر کو نشانہ بنایاجو کہ ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور اس کی کوششوں سے ہم مطمئن تھے اور اسی کے تسلی بخش مذاکرات کے بعد ہم لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا کر روڈ کھول دیا تھا اور ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا تھا ہم متاثرہ خاندان حکومت بلوچستان اور پولیس کے اعلی افسران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مقتولین کے اوپر کسی ایک مخصوص افسر کو نشانہ نہیں بنایا جائے اور قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے ورنہ ہم اہلیان گلنگور نوشکی شدید احتجاج پر مجبور ہونگے اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کو بلاک کریں گے۔


