ڈیتھ اسکواڈز کی تشکیل منفی حکمت عملی، لاپتہ افراد کو بازیاب، تجارتی سرگرمیاں بحال اور وباء کے تدارک کے لیے اقدامات اُٹھائے جائیں، متحدہ اپوزیشن بلوچستان

کوئٹہ:آل بلوچستان اپوزیشن جماعتوں نے عالمگیر وباء کورونا پر حکومتی غفلت،کرپشن،طبی عملے کو حفاظتی سہولیات کی عدم فراہمی،بلوچستان میں امن وامان کی دگرگوصورتحال،لیویز فورس کو ختم کرنے،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ،بے روزگاری،ٹڈی دل کے تدار ک پر حکومتی نااہلی،سیاسی جماعتوں کی احتساب کے نام پر تضحیک اور پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پرتجارت کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پرموجودڈاکٹرز،پیرامیڈیکس،فارماسسٹس اور دیگرہیروز کوان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،اپوزیشن جماعتیں عوام کے حقوق،اختیارات،آئینی وقانونی حقوق اور تحفظ کیلئے میدان عمل میں موجود ہیں،نااہل وسلیکٹڈ حکومت نے عوام کودرپیش مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اقدامات نہ اٹھائیں تو اپوزیشن پارٹیاں احتجاجی تحریک شروع کریگی جو نااہل صوبائی حکومت کے خاتمے پرمنتج ہوگی۔ان خیالات کااظہار آل بلوچستان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نواب محمد اسلم رئیسانی،عبدالرحیم زیارتوال،ملک عبدالولی کاکڑ، جعفرخان مندوخیل،اقبال شاہ ایڈووکیٹ،جمال شاہ کاکڑ، مولوی محمد سرور،حافظ نور علی سمیت دیگر نے بلوچستان اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز آل بلوچستان اپوزیشن جماعتوں جمعیت علماء اسلام،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل)،مسلم لیگ(ن)،پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ق)،جمعیت اہلحدیث،جماعت اسلامی،قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں کا ا جلاس گزشتہ روز پشتونخوا میپ کے مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کے زیر صدارت آغا سید لیاقت علی کی رہائش گاہ پر ہوا اجلاس میں ملک اور صوبے میں درپیش سیاسی صورتھال اور دیگر تمام معاملات پر سیر حاصل بحث ہوئی اور اجلاس میں درج ذیل امور اور فیصلوں پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پورا ملک اور بالخصوص صوبہ بلوچستان کورونا وائرس کی وباء کے شدید لپیٹ میں ہیں گوکہ اس وبائی مرض کی شروعات چین سے ہوئی اور اس وقت بین الاقوامی وبئا کی صورت اختیار کر گیا ہے اور دنیا کے کم وبیش تمام ممالک اس سے متا ثر ہیں ہمارا ملک ور بالخصوص بلوچستان کے سلیکٹڈ نا اہل ناکام حکومتوں کی غفلت اور لاپرواہی،بد انتظامی اور وباء کے نام پر کرپشن اور بروقت عملی اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے کورونا وائرس پورے صوبے میں بری طرح پھیل گیا ہے صوبے میں کوئٹہ کے علاوہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی لیبارٹری موجود نہیں اور نہ ہی ڈویژنل اور ضلعی سطح پر ٹیسٹ کرنے کی کوئی لیبارٹری موجود ہے متاثرہ مریضوں کیلئے ا ٓئسولیشن وارڈ اور نہ ہی معایری علاج کابندوبست اور انتظام ہے کورونا وباء سے بین الاقوامی دنیا کے مختلف ممالک نبرد آزما ہے اور اس کو قبا کرنا لاک ڈاؤن،سماجی فیصلے ڈبلیو ایچ او کے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کرنے سے ممکن ہے لیکن ہمارے ملک میں وفاقی اور صوبئای سطھ پر عوام سے بھونڈا مذاق کیا ملک کے وزیراعظم اور ذمہ دار لوگوں نے کورونا جیسے ملک بیماری کو معمولی زکام اور نزلہ قرار دیا دوسری جانب کورونا کے نام پر سلیکٹڈ حکمرانوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے خیرات اور امداد کی اپیل کرتے رہیں لیکن حقیقی طور پر کوئی عملی اقدامات ہمارے صوبے میں نہیں اٹھائیں گئے جس سے پورے ملک اور صوبے کے طول وعرض میں کورونا وائرس کا وباء پھیل گیا حکمرانوں کی نا عاقبت اندیش پالیسیوں اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کوئی گھر اب اس وباء سے محفوط نہیں اور آئے روز درجنوں لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں اور ہزاروں لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس،نرسز،فارماسسٹس اور صحت کے شعبے سے منسلک بے لوث ہیروز جوکہ کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کیلئے ہمہ وقت موجود ہیں ہم ان کے خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اپنے عوعام کے ساتھ مشکل کی اس گھڑی میں مسلسل کھڑے رہنے پر مزید قدرر ونگاہ سے دیکھتے ہیں صوبائی سلیکٹڈ ھکومت کی جانب سے بروقت ذاکٹرز اور صحت کے شعبے سے ت علق رکھنے والے دیگر اسٹاف کو بروقت حفاظتی پی پی ای کٹس فراہم نہ کرنے کی وجہ سے کوروناوائرس کے شکار ہوگئے اور کہیں نے اپنی قیمتی جان گنواں دی اور اب بھی ڈاکٹرز،پرامیڈیکس اور دیگر اسٹاف کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پی پی ای کٹس فراہم نہیں کی گئی ہے جو کہ انتہائی قابل تشویش اور قابل مذمت بات ہے اس وقت صوبے میں کورونا ائرس سے متاثرہ مریضوں کی جو تعداد ظاہر کی جارہی ہے اس سے کئی گناہ مریض صوبے کے طول وعرض میں جان کی بازی ہار چکے ہیں ہمارا صوبے جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا تقریباً آدھا ہے لیکن ہزارہ کلو میٹر کے فاصلے سے مریضوں کو ٹیسٹ اور علاج کیلئے کوئٹہ لانا نا ممکن ہے ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور کوروناوائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے ٹیسٹ ا ور دیگر سہولیات کوئٹہ سے باہر نہ ہونے کے برابرہے،ہمارامطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر صوبے کے تمام اضلاع میں کورونا سے متا ثرین کی پی سی آر لبیارٹری بنائیں اور کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام طبی آلات اور دیگر سہولیات فراہم کریں نیز متعلقہ اسٹاف کوشعبہ صحت کے مستند اداروں میں فوری طور پر ٹریننگ دی جائے بلوچستان کے مفلوک الحال غریب،مصیبت زدہ عوام کو کورونا جیسی موزی وباء سے نجات دلانے کیلئے سلیکٹڈ صوبائی حکومت بین الاقوامی امدادی اداروں،صھت کی بین الاقوامی تنظیم ڈبلیو ایچ او اور تمام ترقیافتہ ممالک خصوصاً چین سے فوری طور پر طبی امداد،آلات،ساز وسامان مہیا کرنے کی اپیل کریں اور حکومت کورونا وائرس کے حوالے سے ایک ہفتے کے اندر ا ندر صوبے کے تمام اضلاعم ین ٹیسٹنگ مشین پی سی آر اور کورونا سے متعلق طبی امداد،آلات وسامان محکمہ صحت کے انتظامیہ کے حوالے ہو اور ہر ضلع میں آئسولیشن وارڈ بنایا جائے اور محکمہ صحت کے عملے کی باقاعدہ تربیت کی جائے،اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ ملک پہلے سے ہی سیاسی آئینی،معاشی اور معاشرتی بحرانوں کا شکر ہے اور اگر اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سیچھیڑنے کی کوشش کی گئی تو اس سے ملک مزید سیاسی بحرانوں میں گر جائے گ ا جس کی تمام تر ذمہ داری انہی قوتوں پرعائد ہوگی ایسے میں سیاسی جمہوری پارٹیوں اور تمام قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اس کوشش کو ناکام بنائیں،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال انتہائی دگرگوں ہیں ایک بار پھر مختلف علاقوں میں مسلح گینگ(ڈیتھ اسکواڈ) کے ذریعے امن وامان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے جس کی واضح مثال کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں مسلح گینگ کے ذریعے جواں سالہ بلال خان نورزئی کی شہادت اور دو جوانون کے شدید زخمی اور بلال نورزئی کی لاش کی بے حرمتی کا دردناک وقعہ پیش آیا اسی طرح کیچ کے علاوہ ڈنک کے مقام پر ایک گھر میں دکیتی جس کے نتیجے میں خاتون ملک ناز شہید اور ان کی معصوم بچی برمش شدید زخمی ہوئی ہے جو تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہے بلوچستان میں ایک بار پھر ام نوامان کے قیام کے نام پرملکی اداروں کی جانب سے مسلح دستوں (ڈیتھ اسکواڈ) کی تشکیل اور انہیں کھلی چھوٹ دینا انتہائی منفی حکتم عمل ہے ان جرائم یشہ عناصر اور گروپ کی وجہ سے ڈکیتی،چوری،اغواء برائے تاوان کے جرائم روز بروزبڑھتے جارہے ہین ہم سمجھتے ہیں کہ ان مسلھ دستوں (ڈیتھ اسکواڈ) کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی سے معاشرے میں ملکی اداروں کیخلاف بد اعتمادی اور نا پسندی مزید برھ جائیگی کیونکہ ماجی میں بھی اس قسم کے گروپ اپنے آپ کو سول انتظامیہ سے طاقتور ار بالادست سمجھتے ہیں اجلاس میں صوبے میں لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطا لبہ کیا گیا ہے کہ ا نہین فوری طور سے بازیاب کیا جائے اور ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح دستوں اور ان کی غیر قانونی راہداریوں کو ختم کیا جائے۔صوبائی حکومت ایک بارپھر صوبے میں بالعموم اور کوئٹہ میں بالخصوس لیویز فورس کو ختم کرنے اور اس کی جگہ پولیس فورس کو مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی واضح مثال کوئٹہ کے غبرگ،نوحصار،پنجبائی،ہنہ،سرہ کولہ اور دیگر علاقوں کو پولیس کے حوالے کرنیکی ہم بھر پورمذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ لیویز فورس کو مزید تربیت یافتہ بنا یا جائے اور کوئٹہ لیویز کے تمام تھانوں کو واپس لیویز کے حوالے کیا جائے،سلیکٹڈ حکمرانوں کے دور میں مختلف اضلاع میں دو یا تین گھنٹوں سے زیادہ بجلی فراہم نہیں کی جارہی بجلی کی وولٹیج کی کمی زیادتی کی وجہ گھروں کے الیکٹرونک مشینری اور خصوصاً زمیندارون کی ٹیوب ویل کی مشینری جلنے سے عوام کو لاکھون کا نقصان اٹھا نا پڑتا ہے حالانکہ کیسکو کے ساتھ تحریری معاہدے کے تحت زمینداروں کو کم از کم 10گھنٹے بجلی فراہم کرانے اور بجلی کی کمی بیشی کو درست کرنے کا معاہدہ ہوا مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا ہے۔ملک میں مسلسل مہنگائی اور کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے سخت بیروزگاری کا مسئلہ در پیش ہے جس پر اجلاس میں سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مہنگائی،بیروزگاری اور پٹرول کے ناپید ہونے کی صورتحال در اصل عوام کو دست وگریبان کرنے ا ور خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی دانستہ کوشش ہے اور سلیکٹڈ حکمرانوں پر لازم ہے کہ عوام کو کرپشن سے پاک معاشی امداد فراہم کریں ا ور پٹرولیم کی مصنوعی قلت کو ختم کیا جائے صوبے کے طول وعرض میں ٹڈی دل کے حملوں نے کھڑی فصلیں بالخصوص باغات وزراعت کو تباہ کر دیا مگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کئے حالانکہ ٹدی دل نے پہلا حملہ 2019میں کیا تھا اس وقت اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے اس سلسلے میں ٹڈی دل کیخلاف اسپرے کرنے اور اس کے کاتمے کیلئے موثر اقدامات ا ٹھانے کا کہا مگر افسوس س ے کہنا پڑرہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ 6ماہ میں ایسا کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے ٹڈی دل نے اپنے محفوظ ٹھکانے بنائے اور ٹڈی دل کی مزید افزائش کی وجہ سے اب ٹڈی دل نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں دوبارہ حملہ شروع کیا ہے جس کے باعث زمیندار وں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے فصلات کی تباہی سے قحط کابھی خدشہ ہے لہٰذا حکومت ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے جامع اقدامات اٹھائیں ہر قسم کے وسائل بروئے کار لاکر جہازوں کے ذریعے فضائی اسپرے شامل ہو کیلئے منصوبہ کی جائے ملک کے موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں اور نیب کی گٹھ جوڑ سے ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کیخلاف احتساب کے نام پر ان کی تضحیک اور کردار کشی پر تشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی تضحیک اور کردار کشی کو ختم کیا جائے۔،انہوں احساس پروگرام کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ احساس پروگرام میں ہونے والے کرپشن کی تحقیقات کی جائے،انہوں نے کہاکہ چمن کے ڈیورنڈ لائن اور تفتان بارڈر پرمسلسل تجارتی سرگرمیاں بند کرنا تجارت اور معیشت کے خلاف گہری سازش اور عوام کی معاشی قتل عام ہے،اس کی فوری کھولنے اور تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائے آل بلوچستان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کہاکہ اگر بالا تمام نکات پر حکومت کی جانب سے فوری طور پر اورعوام کو درپیش معاملات کے حل کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تواپوزیشن پارٹیاں اپنے عوام کی مدد اور تعاون سے احتجاج تحریک کاآغاز کریگی جو نااہل صوبائی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوگی کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے عوام کے حقوق واختیارات اور ان کے ا ٓئینی قانونی حقوق تحفظ کیلئے میدان عمل میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں