بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ، مسلح جتھوں کے فعال ہونے سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی، بلوچ یکجہتی کمیٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی شال، کراچی، اسلام آباد، لاہور اور کیچ نے مشترکہ بیان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافے اور ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈز کی منظم شکل اختیار کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات تھمنے کے بجائے مزید بڑھ رہے ہیں، جہاں ایک طرف ریاست بلوچستان میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے مذاکرات و امن کی بات کرتی ہے، وہیں دوسری جانب اپنی ہی باتوں کو رد کرتے ہوئے درجنوں افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے گمنام زندانوں میں بند کردیتی ہے اور عام عوام زندگی کو اجیرن بنانے کیلئے مسلح جتھے جو بدنام زمانہ ڈیتھ اسکواڈز کے نام سے جانے جاتے ہیں انہیں منظم کرتی ہے جس کی وجہ سے آج وڈھ و کئی علاقے جنگ زدہ ہیں، وہیں دیگر علاقوں میں بھی ان اسکواڈز کی آپس کی لڑائی اور قتل و غارت نے عام عوام کی زندگیوں کو تنگ گلی میں بند کر۔دیا ہے۔ کیا یہ ریاستی دوغلا پن نہیں کہ جہاں ایک طرف بلوچستان کے حوالے سے سنجیدگی و مذاکرات کی بات کی جاتی ہے وہیں آپریشنز کے ذریعے لوگوں کو اٹھانے، جبری طور پر لاپتہ کرنے، مسخ شدہ لاش و فیک انکاﺅنٹرز میں مسنگ پرسنز کو مارنے اور قتل و غارت کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور مسلح جتھے و ڈیتھ اسکواڈز تشکیل دے کر عام عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا جاتا ہے۔ جب تک ریاست اپنے اس موقف و پالیسی میں تضاد کا خاتمہ نہیں کرتی اور عملاً بلوچستان میں جاری ناانصافیوں و قتل و غارت کو بند نہیں کرتی بلوچستان کے حالات کا ٹھیک ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کے دوران اب تک کے اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، وہیں آپریشنز کے ذریعے عوام کے گھر و مال و معاش کو بھی سنگین نقصان پہنچایا گیا۔ پہلے سے کئی افراد کو لاپتہ کرنے کے بعد کل ایک اور چھاپے میں حصو بگٹی، ان کے دو بیٹے مری بگٹی اور خیرا بگٹی اور ٹھارو بگٹی و احمد علی بگٹی کو گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے علاوہ ڈیرہ بگٹی سے حسینو، دادن اور پنھل بگٹی بھی غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاوہ آواران میں بھی آپریشن جاری ہے اور دوران آپریشن متعدد افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زاہد ولد دلبود، واحد ولد کریم بخش اور امداد ولد ابراہیم شامل ہیں۔ جبکہ آواران کے ہی رہائشی کمسن شکیل ولد نصیر احمد کو حب چوکی سے جبرا لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ اسی طرح تمپ سے شہید کیگد بلوچ کے دو بیٹوں صغیر بلوچ اور داد رحیم کو ان کے گھروں سے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، تمپ ہی سے ایک اور واقعے میں 18 جولائی کو دو کمسن نوجوان فاروق ولد مراد محمد اور پیر بخش کو جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور غیر قانونی چھاپے میں دسویں جماعت کے کمسن طالب علم شاہد ولد چارشمبے کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ایک اور واقعے میں سیکورٹی فورسز نے چھاپہ مار کر کوئٹہ سے خضدار کے رہائشی محمد رضوان ولد رمضان نتھوانی کو غیر قانونی حراست میں لیکر نامعلوم زندان میں بند کیا گیا جبکہ اسی مہینے زبیر ولد جمعہ، سالم، حکمت ولد ماسٹر برکت، عنایت اللہ ولد کوہی بگٹی، عثمان ولد رضو بگٹی، اعظم ولد اللہ داد، ظہور ولد جام خان، گلاب ولد جمال، داد بخش، زباد بلوچ اور 80 سالہ بزرگ دینار بلوچ سمیت درجنوں افراد اغواءکیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف بلوچستان میں آپریشنز، غیر قانونی چھاپے، قتل و غارت اور جبری گمشدگیاں ہیں وہیں ریاستی سرپرستی میں شفیق مینگل و دیگر ڈیتھ اسکواڈز نے وڈھ کو جنگی علاقے میں تبدیل کردیا ہے اور عام عوام اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، وڈھ کے علاوہ بھی بلوچستان بھر میں ہر گلی اور کوچے میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کا ایک گینگ تشکیل دیا ہے۔ کہیں پر یہ چوری و چکاری سے گزارا کررہے ہیں تو کہیں منشیات فروشی، اغوا برائے تاوان، کاروباری حضرات سے بھتہ وصولی، نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، خواتین و بچوں کو ہراساں و اغوا کرنے سمیت ہر طرح کے ناجائز و غیر انسانی عمل میں ملوث ہیں۔ نام نہاد وفاقی و قوم پرست پارٹیوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ڈیتھ اسکواڈز کے گروہ تشکیل دیے ہیں اور تمام ڈیتھ اسکواڈز چاہے ان کی ڈور کہیں کسی بھی نام نہاد سیاسی افراد یا منشیات فروشوں کے ہاتھوں میں ہے سب ریاست کے اشارے پر کام کررہے ہیں اور ریاست کے اشارے پر ہی انہوں نے بلوچستان کو ان کے لوگوں کیلئے جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔ ان کے مظالم سے تنگ آکر نجمہ جیسی تعلیم یافتہ و عزت دار گھرانے سے تعلق رکھنے والی خواتین خودکشیاں کررہی ہیں، یا انہیں قتل کیا جا رہا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں قائم ان اسکواڈز نے بلوچستان میں مظالم کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جن کی مثال نہیں لیکن انہیں غیر مسلح کرنے کے بجائے ریاست اپنے مفادات کیلئے انہیں مزید مسلح کررہی ہے۔ ان گروہوں کو مسلح کرنا ریاست کی جانب سے بلوچستان میں خانہ جنگی پیدا کرنے کی کوشش ہے جن کیخلاف بلوچ عوام کو منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات ختم نہ ہوئے اور ڈیتھ اسکواڈز کو غیر مسلح نہ کرنے کے ساتھ انہیں اسی طرح چھوٹ دی گئی تو اس کے خلاف بلوچستان و پاکستان بھر میں سیاسی تحریک کا آغاز کریں گے۔ ہزاروں گمشدہ افراد کو رہا کرنے کے بجائے مزید لوگوں کو لاپتہ کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ ریاست بلوچستان میں جاری انسانی المیے کو روکنے کے بجائے اس میں شدت لانے کی خواہش رکھتی ہے جبکہ مسلح جتھوں کو غیر مسلح کرنے کے بجائے بلوچستان بھر میں ان کا جال پھیلانا اور انہیں مزید اسلحہ و گولا بارود مہیا کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ ریاست بلوچستان میں امن نہیں بلکہ بلوچستان میں خونریزی کی خواہشمند ہے۔ بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ سیاسی تحریک و جدوجہد کے ذریعے ریاست کے ان غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کیخلاف ہماری جدوجہد کا ساتھ دیں تاکہ ہم بلوچستان کو ریاست کے ان غیر انسانی پالیسیوں کے یرغمال ہونے سے بچاسکیں۔


