پنجاب کی آبادی 12 کروڑ نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان کا مشترکہ مفادات کونسل میں کیا کردار تھا، اسد بلوچ
کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر و صوبائی وزیر زراعت میر اسداللہ بلوچ نے کہا ہے کہ حالیہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2 کروڑسے زائد تھی لیکن سی سی آئی کی میٹنگ میں 70 لاکھ بلوچستان کی آبادی کی کٹوتی کی گئی، یہ صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفر نس کر تے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ناشناس لہڑی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ صوبائی وزیرمیراسد اللہ بلوچ نے کہا کہ پنجاب کی آبادی اس وقت 12کروڑ ظاہر کی گئی ہے لیکن یہ آبادی سات کروڑ سے زائد نہیں ہے یکطر فہ فیصلے کئے جائیں تو نا انصافی ہو تی ہے میں چیلنج کر تا ہوں کہ پنجاب کی آبادی 12کروڑ نہیں ہے پنجاب کی آدی زمین پر پانچ دریا ہیں 18ہزارہ کارخانے ، مو ٹر وے، ہائی وے ہیں ، مری میں پہاڑ ہیں اتنے سی زمین کے ٹکڑے پر 12کروڑ لوگ کسے کھاپا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے نتائج میں بلو چستان کا استحصال کیا گیا یہ ایک لوٹ مار کا ڈرمہ رچایا جا رہا ہے صوبے کے دانشوروں ، سیاسی کارکنوں ، ادیبوں نے لوگوں کو آگاہی دی کہ وہ مردم شماری میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیں جس کے نتیجے میں صوبے کی آبادی 2کروڑ 43لاکھ سے زائد ہو ئی جس کے گواہ صوبائی مر دم شماری کمشنر بھی ہیں لیکن سی سی آئی میں صوبے کی آبادی کو 70لاکھ نفوذ کاٹ دئے گئے ہیں ، بلو چستان کے بجٹ سیندک، ریکوڈک، سی پیک سمیت دیگر مداد میں پہلے ہی کٹوتیاں ہو تی آئی ہیں ہماری اپنی تاریخ ہے ہم اپنی تاریخ رسم و رواج کبھی گروی نہیں رکھیں گے اگر ہم ناپسندیدہ ہیں یا بوجھ ہیں تو ہمیں جہاں سے اٹھایا گیا ہے اسی پوزیشن پر رکھ دیا جائے ہم جمہوری سیا سی جدو جہد کے تحت اپنے حقوق کی جدو جہد کر تے رہیں گے، مردم شماری کے نتائج کے خلاف پریس کلب ، سیمینار، اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا ۔ تمام سیا سی جماعتوں ، بلو چستان میں بسنے والی اقوام اور ہر بلو چستانی سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ آئیں ہماری ساتھ ملکر جدو جہد کریں گے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکمرانی ،ظلم زیادتی اور نو آبادیاتی طرز حکمرانی کو ختم کریں بلو چستان کے ساحل وسائل کی اہمیت ہے کہ لیکن ہمارے انسانوں کی اہمیت نہیں ہے ، وزیر اعلیٰ جب کوئٹہ آئیں تو ہم ان سے ضرور پوچھیں گے کہ انکا مردم شماری کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا کردار تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پانچ سال میں بلو چستان اسمبلی نے 84قرار دادیں منظور کی ہیں ان میں سے ایک پر بھی عمل در آمد نہیں ہوا لیکن ہم مایوس نہیں ہوں گے ہم اپنی جدو جہد کو جاری رکھیں گے جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہم بائیکاٹ کریں اور انتخابات میں نہیں جائیں تاکہ پیراشوٹرز کو اسمبلی میں لاسکیں ہم انکے لئے خلاءخالی نہیں چھوڑیں گے ۔


