مردم شماری کی اتفاقِ رائے سے منظوری کا بھانڈا پھوٹ گیا، جماعت اسلامی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ مردم شماری کی اتفاقِ رائے سے منظوری کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اتحادی حکومت کو انتخابات میں تاخیر کے لیے استعمال کریا گیا، اب بلوچستان سے حکومتی پارٹیوں نے احتجاج کردیا اور سندھ خصوصا کراچی سے ایم کیو ایم اور پی پی پی پر انگلیاں اٹھ چکی ہیں کہ انہوں نے کس مجبوری سے اتفاقِ رائے کیا اور ایم کیو ایم نے ایک بار کراچی کی سودے بازی میں کیا اہداف حاصل کیے ہیں۔ایک بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ مردم شماری مشترکہ مفادات کونسل سے اتفاقِ رائے کی منظوری کا تاثر زائل ہوگیا ہے۔ عملًا مردم شماری متنازعہ ہے۔ متنازعہ مردم شماری کی آڑ میں انتخابات کا التوا نامنظور ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے لیے موقع ہے کہ تمام ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیں اور متنازعہ مردم شماری، آئین کے دو آرٹیکلز کے ٹکراؤ سے 24کروڑ عوام کے جمہوری حق میں تاخیر کا نوٹس لیں اور اس آئینی تنازعہ کی سپریم کورٹ تشریح کرے اور آئین، جمہوریت، عدل کے نظام کی حفاظت کرے۔ جماعتِ اسلامی کا واضح دوٹوک مقف ہے کہ انتخابات اسمبلیوں کی مدت کے خاتمہ کے بعد بروقت اور آئین کی متعین کردہ مدت میں ہی ہونے چاہئیں۔لیاقت بلوچ نے سندھ نواب شاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس ٹرین کے حادثہ پر دِلی افسوس اور صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر بڑے حادثہ پر پوری قوم سوگوار ہے۔ تواتر کے ساتھ حادثات، دہشت گردی کے واقعات سے پورا ملک پریشان ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس اور افراطِ زر کے مارے عوام کو کہیں بھی جان مال عزت کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔ حکومت اس المناک ٹرین حادثہ کی وجوہات سے عوام کو آگاہ کرے۔ نگران حکومتوں کا پہلا ٹاسک ہی یہ ہو کہ شہدا اور زخمیوں کے سوگوار خاندانوں کی مدد کی جائے اور حادثہ کی حقیقت قوم کے سامنے رکھی جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ گھروں میں کم سن ملازمین پر تشدد اور دہشت کا سلسلہ دراز ہورہا ہے۔ معاشرتی زوال کی وجہ سے گھروں میں لاتعداد مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ کم سِن بچوں کے گھروں میں کام کا سدِباب کیا جائے۔ دیگر محاذوں کی طرح گھروں میں ملازمین کی سپلائی کا کام بھی مافیاز جیسا بن گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں