حکومت اپنی کارکردگی کی وجہ سے جلدی الیکشن کروانے سے فرارچاہتی ہے، سراج الحق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ ظلم سے پاک ،کرپشن سے پاک ، کلین، گرین، اورکرپشن فری پاکستان ، کون بناسکتا ہے تووہ صرف اورصرف جماعت اسلامی بناسکتی ہے، باقی توسارے آزمائے گئے ہیں، صدر ایک کا، وزیر اعظم دوسرے کا اوروزیر خارجہ تیسرے کا، سب جماعتیں اس وقت حکومت میں شریک ہیں، سوائے سراج الحق اورجماعت اسلامی کے۔ حکومت اپنی کارکردگی اوراپنے اعمال کی وجہ سے جلدی الیکشن کروانے سے فرارچاہتی ہے، ہمارا مئوقف یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی) کااجلاس بہت پہلے ہونا چاہیئے تھا اب جتنا الیکشن کمیشن جلد ازجلد الیکشن کی تاریخ کااعلان کرے اتنا ہی پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ نگران وزیر اعظم ایک ہی کام کرے اورقوم پر مہربانی کرے کہ شفاف الیکشن کا انعقاد کرے اگراس نے یہ کارنامہ کرکے دکھایا توسنہری حروت سے لوگ اس کانام تاریخ لکھیں گے۔ نگران وزیر اعظم غیر جانبدار اوردیانتدار آدمی ہو جو24کروڑ عوام کے ساتھ صرف ایک ہی بھلائی کرے کہ ایک شفاف اوردھاندلی سے پاک الیکشن کاانعقاد کروائے۔ ان خیالات کااظہار سراج الحق نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ مجھے عوام سے گلہ نہیں ہے، عوام بیچاری یرغمال بنائی گئی ہے، پولنگ اسٹیشن یرغمال، پولنگ عملہ یرغمال، الیکشن سے پہلے فیصلے ہوتے ہیں کہ کس کوآنا ہے، کون ساصوبہ کس کے حوالہ کرنا ہے، میرامستقل مطالبہ یہی ہے کہ جس دن پاکستان میں الیکشن کمیشن غیر جانبدار رہا، عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ غیر جانبدا راوراسٹیبلشمنٹ نے غیر جانبداری اختیار کی ، جماعت اسلامی کو لوگ ووٹ بھی دیں گے، سپورٹ بھی دیں گے نوٹ بھی دینا چاہتے ہیں اورثابت بھی کیا ہے، جماعت اسلامی ایک بہت بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے گی۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر بہت سارے کیسز بنائے گئے ہیں اور یہ قابل فہم تھا کہ کسی نہ کسی کیس میں اس کو گرفتار ہونا ہے اوریہ اس نے خود بھی کئی بار اپنی تقریوں ، انٹرویوز اورپیغامات میں یہی کہا ہے کہ مجھے ضرورگرفتارکیا جائے گا، بالاآخر گرفتار ہو گئے۔ جو لوگ بکھر گئے یا جداہو گئے وہ ایسے لوگ تھے جو دوسروں کے کہنے پر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، اس لئے اب وہ واپس چلے گئے، یہ کوئی اچنبھے اورحیرانگی کی بات نہیں ہے، ایک چیز کی اٹھان جیسی بھی ہواس کا بکھرنا یا منتشر ہونا بھی ویسے ہی ہوتا ہے۔ یہ سب کے سب وہی لوگ ہیں جو ایک زمانے میں آپ کو پرویز مشرف کے ساتھ ملیں گے، پھر مسلم لیگ میں ملیں گے، پھر ایم کیوایم میں ملیں گے، پھر پیپلز پارٹی میں ملیں گے، یہ سیاسی خانہ بدوش ہیں کبھی اِدھر،کبھی اُدھر، کبھی اُدھر کبھی اِدھر ، کبھی ایک جھنڈے کے ساتھ اور کبھی دوسرے جھنڈے کے ساتھ ، اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کوئی موروثی جماعت نہیں تھی اس میں مخلف لوگوں کو جمع کیا گیا اورایک پارٹی بنائی، جن کے اپنے مفادات اور نظریات تھے اوروہ اپنے حلقے محفوظ بنانے کے لئے عمران خان کے پاس آئے تھے۔ عمران خان کی تین سالہ حکومت کاخاتمہ مخالفین نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود کیا ہے،انہوں نے اپنی صوبائی اسمبلیوں کو ختم کیا، مرکزی حکومت کوختم کیا، انہوں نے اپنے ہی لوگوں کو قومی اسمبلی سے باہر نکالا، اگرچہ وہ نہیں چاہتے تھے، پرویز الہیٰ نہیں چاہتا تھا کہ ان کی وزارت اعلیٰ ختم ہو ، محمود خان نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وزارت اعلیٰ ختم ہو، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ان کی زبردست اکثریت تھی، پی ٹی آئی نے خود تمام حکومتوں کو ختم کیا، مرکزی حکومت کو بھی ختم کیا پھر چلتے چلتے کشمیر اورگلگت بلستان کی حکومت بھی ختم ہوئی۔ پی ڈی ایم اگر یہ کریڈٹ لیتی ہے کہ ہم نے عدم اعتمار لا کرپی ٹی آئی کی حکومت ختم کی توایسا نہیں ہے، عمران خان نے سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کیا ہے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کی 15ماہ کی کارکردگی پی ٹی آئی حکومت کی طرح بدترین ہے اور آج جب شہبازشریف قوم کے پاس جارہے ہیں یا جائیں گے تو دینے کے لئے اوربتانے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، سوائے حسب روایت ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے ۔شہبازشریف اس سوال کا جواب دیں کہ کیوںانہوں نے اچانک پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا، بین الاقوامی منڈی میں توایسا نہیں ہے، انہوں نے بجلی کی قیمت میں کیوں اضافہ کیا بین الاقوامی سطح پر توایسا نہیں، انہوں نے دوائی کی قیمت میں کیوں اضافہ کیا۔ خاص طور پر 15ماہ میں خیبرپختونخوااوربلوچستان میں ددھما کے اورخودکش حملے شروع ہو گئے اوربدقستمی کاایک نیا دروازہ کھل گیا، شہبازشریف تواب چلے جائیں گے ،12اگست رات12بجے کے بعد ان کی حکومت اوراسمبلی کی مدت ختم ہوجائے گی، لیکن اس نے بدامنی کی جوآگ لگائی ہے اُس آگ کو کون بجھائے گا۔ جو کہتے ہیں کہ ریاست ہم نے بچائی میں اُن کو کہنا چاہتا ہوںکہ پاکستان کوئی شیشے کا گلاس نہیں کہ کوئی اُس کو توڑے گابلکہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے ،یہ24کروڑ عوام کا ہے، اس کی ایک زبردست اسٹریٹیجک جغرافیائی پوزیشن ہے، ہمارے پڑو س میں روس آیا تھا اس کو شکست ہوئی، ہمارے پڑوس میں نیٹو افواج آئی تھیں ان کو شکست ہوئی، پاکستان ناقابل تسخیر ہے اوریہ قیامت تک رہے گا، یہ جو ڈرانے والے ہیں کہ اگر میں نہ ہوں تویہ ختم ہو جائے گا، یہ کبھی ختم نہیں ہو گا، لوگ آتے جاتے ہیں اورحکومتیں بدلیں گی، پاکستان اسی طرح قائم رہے گاکیونکہ یہ کلمہ کی بنیاد پر بنا ہے، جس طرح کلمہ طیبہ لافانی ہے اسی طرح پاکستان لافانی ہے، اللہ تعالیٰ کبھی بھی پاکستان کو ضائع نہیں کرے گا، اس کی بنیادوں میں خلوص اورشہداء کاخون شامل ہے۔ جہاں تک ڈیفالٹ کی بات ہے تومیرا سوال یہی ہے کہ توقرضے لے کر ملک بچانایہ کہاں کی معیشت،کہاں کی دانائی اورکہاں کی سیاست ہے۔ یہ آئی ایم ایف کا 23واں پروگرام ہے، ہر بار یہ پروگرام ناکامی سے دوچارہوتا ہے اورمزید قرضوں کے لئے ایک نیا پروگرام لینا ہوتا ہے اوروہ دیتے ہیں۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ 90دن میں الیکشن کروانے کی بات سن کر شہبازشریف کے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں، خوف میں مبتلا ہیں، عوام کا سامنا نہیں کرسکتے، یہ بڑے سیانے لوگ ہیں اورچاہتے ہیں کہ پانچ، چھ ، آٹھ ، نو ماہ نگران حکومت قائم ہو اورلوگ ہمارے کرتوتوں ، کارناموں اورمظالم کو بھول جائیں اور پھر ہم الیکشن میں جائیں۔24کروڑ عوام کا ایڈہاک ازم کی بنیاد پر چلانایہ ناممکن اور مشکل ہے اور پاکستان کے ساتھ ظلم ہے، یہاں ایک مستحکم اور پائیدارعوام کے میڈیٹ کے ساتھ ایک حکومت ہو وہ عالمی دنیا کا بھی سامنا کرے گی اور ملک کے مسائل کو بھی حل کرسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں