مجھے اور میرے اہلخانہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، ماورائے آئین اقدامات خاموش نہیں کراسکتے، حوران بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پر سنزکی ریسرچ کوآرڈینیٹر حوران بلوچ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں سے مجھے اور میرے خاندان والوںکو سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند دن قبل سریاب سےٹلائٹ ٹاﺅن شفٹ ہونے کے بعد سے ہمیںمسلسل فالو کیا جارہا ہے اور بار بار مختلف لوگ گھر کے گیٹ پر آکر ہراساں کررہے ہیں۔ حوران بلوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ شب تقریباً 3 بجے ہمارے کلی شاہ نواز والے گھر کو فورسز نے گھیرے میں لیا، جہاںمیرے والد رہتے ہیںاور گھر میں داخل ہوئے۔ میرے والد کو اٹھا کر گھر کی تلاشی لی، گھر کے اندر اور چھتوں پر سی ٹی ڈی اہلکار اسلحہ تھامے کھڑے تھے اور گیٹ پر میرے والد سے تلخ کلامی بھی کی۔ انہوں نے والد سے کہا کہ تم اپنی بیٹی کو لگام دو اور مجھ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے، والد سے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیں کہ وہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ اور احتجاج میں نہ جایا کرے، ورنہ ہم آپ کے خاندان کے ساتھ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ حوران بلوچ کا کہنا تھا کہ میرا کسی سیاسی و مزاحمتی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں گزشتہ 13 سال سے وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کے کیمپ کے ساتھ منسلک رہی ہوں اور میں صرف اور صرف ایک انسانی حقوق کی کارکن اور وائس فار بلوچ مسنگ پر سنزکی ر سرچ کوآرڈینیٹر ہوں، میں تنظیم کے آئین کو فالو کرتی ہوں اور پاکستان کے قوانین کے تحت لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کےخلاف پرامن جدوجہد کررہی ہوں۔ پرامن اور آئینی جدوجہد کے باوجود مجھے اور میرے خاندان کو تنگ کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ماورائے آئین اقدام ہے۔ جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حوران بلوچ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے میں خاموش نہیں رہوں گی بلکہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کیخلا ف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے پرامن جدوجہد جاری رکھوں گی۔ اگر اس دوران مجھے اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ سمیت ریاستی ادارے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں