چینی کمپنی نے سیندک کو مقامی آبادی کیلئے نو گو ایریا بنا دیا ہے، نیشنل پارٹی
نوکنڈی (یو این اے)نیشنل پارٹی چاغی کے پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ ضلع چاغی میں اختیارداروں نے چائنیزکمپنیوں کی ملی بھگت سے سیندک کو لوٹنے کے بعد سرکاری سرپرستی میں غیر قانونی طور پر تانبے ودیگرقیمتی دھاتوں کے سب سے بڑے ذخیرہ جوکہ دوربن چاہ اورریکودک کے ایریا میں سیاہ دک پرموجودہے بلوچستان حکومت سے بغیر کسی معاہدے کے دوسالوں سے چائنیزکمپنی ایم آرڈی ایل سیندک کے مشینریزاورملازمین کے ساتھ کام کاآغاز کرکے علاقہ کو مقامی آبادی کے لئے نوگوایریابنادیاہے غیر قانونی طور پر قبضہ کیاہوا سیاہ دک کے ایریازکومکمل بھاڑلگاکرمقامی آبادی کے مشکلات میں اضافہ کیا جارہاہے روزانہ اس علاقہ میں بھاڑ کومزیدوسعت دیکر مقامی آبادی اورلوکل مائنزکوجانے والے راستوں اور مویشیوں کے چراگاہوں کوختم اوربندکیاجارہاہے جس سے مقامی آبادی کواپنے بیماروں کونوکنڈی تک پہنچانے میں گھنٹوں کھٹن راہوں سے سفرکرناپڑرہاہے سیاہ دک میں موجود فورسز کی جانب سے صدیوں سے آبادبلوچ کمیونٹی اورلوکل مائنزپرکام کرنے والے لیبرزکوتنگ کرکے ان پر عرصہ حیات تنگ کیاگیاہے بیان میں مزیدکہاگیاہے کہ اقتدار پر براجمان بااثرشخصیات چائنیزکمپنی اور کچھ طاقتور حلقوں کے ساتھ ملکر بلوچستان کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے غیر قانونی پرلوٹ کرریاست کے اندر اپنی الگ ریاست بنارہی ہے جنھیں کسی بھی ادارے یا حکومت کی جانب سے کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا بلوچ سرزمین سے بلوچ وسائل لوٹنے کے ساتھ مقامی آبادی کوبدلے میں پسماندگی مشکلات بیروزگاری اور اذیتیں دیکر انکے ذریعہ معاش کوبھی ختم کیا جارہاہے بیان میں کیاگیاکہ بلوچستان حکومت بتائیں کہ سیاہ دک پردوسالوں سے سیندک کے کمپنی ایم آرڈی ایل کن معاہدوں اور کس قانون کے تحت کام کررہی ہے اور روزانہ بھاڑ کووسعت دیکر پورے علاقہ کو قبضہ کوکس مقصد کے لئے قبضہ کیاجارہاہے اور مقامی آبادی کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیارکرکے انھیں نقل مکانی پر مجبور کیاجارہا ہے بیان میں کہاگیاکہ نیشنل پارٹی دوربن چاہ ودیگر بلوچ آبادی کے ساتھ جاری مظالم اور استحصال پر مرکزی وصوبائی قیادت اور نیشنل پارٹی لائیرزفورم کے مشاورت سے لائحہ عمل طے کرے گی اور اپنے لوگوں کوتنہانہیں چھوڑے گی۔


