رانی پور، پیر کی حویلی میں تشدد سے قتل ہونے والی کمسن گھریلو ملازمہ فاطمہ کی قبر کشائی
رانی پور(مانیٹرنگ ڈیسک)رانی پور میں پیر کی حویلی میں تشدد سے قتل ہونے والی کمسن گھریلو ملازمہ فاطمہ کی قبر کشائی کردی گئی۔قبر کی کھدائی کے بعد مقتول بچی فاطمہ کی لاش نکال کر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں معائنہ کیا۔ فاطمہ کی لاش نارمل حالت میں ہے، لاش کے معائنے کے موقع پر میڈیا کو دور رکھا گیا ہے۔دریں اثنا رانی پور تشدد کیس میں 10 سالہ فاطمہ پھرڑو کا علاج کرنے والے ڈسپنسر کو گرفتار کرلیا گیا۔سندھ کے علاقے رانی پور میں بااثر پیر کی حویلی میں قتل ہونے والی 10 سالہ معصوم بچی فاطمہ پھرڑو کے کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، رانی پور میں پیراسدشاہ جیلانی کی حویلی کے اندر فاطمہ پھرڑوکا علاج کرنے والے ڈسپنسر کو گرفتار کرلیا گیا۔ اسد شاہ جیلانی نے تفتیش کے دوران مقتولہ فاطمہ پھرڑو کا علاج کرنے والے ڈسپنسر امتیاز میراسی کا انکشاف کیا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیاہے۔رانی پور کا ڈسپنسر امتیاز میراسی حویلی میں فاطمہ پھرڑو کا علاج کرنے کے لیے آتا رہا ہے۔ امتیاز سے تفتیش کے دوران کیس کے سلسلے میں انکشافات کی توقع ہے۔


