سرکاری سردار وڈھ میں لاشوں پر سیاست کرکے اسمبلیوں تک دوبارہ پہنچنا چاہتا ہے، جھالاوان عوامی پینل

جھالاوان عوامی پینل کے سٹی آرگنائزر میر شہزاد خان غلامانی سنیئر رہنما میر شہباز خان قلندرانی سٹی سیکرٹری ظفر تاج میروانی میر خلیل احمد قلندرانی ڈاکٹر عبدالحق میرفدا احمد قلندرانی میر عزیز الرحمن قلندرانی میر سعداللہ گنگو شہباز خان غلامانی میر اورنگ زیب قلندرانی ودیگر نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈھ میں گزشتہ دوماہ سے جنگی حالات ہیں تمام سرکاری تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں وڈھ بازار اور گلی محلوں میں ہو کا عالم ہے آپ سب کے علم میں ہی کہ وڈھ اس وقت پوری طرح سرکاری سردار کے رحم و کرم پر ہے، 18 جون سے سرکاری سردار نے اپنے مسلح جتھوں کے ذریعے وڈھ شہر اور اسکے مضافات میں سیکڑوں مورچے قائم کر کے وڈھ شہر اور محب وطنوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے نگران حکومت میں اپنے من پسند افراد کو نامزد کرنے کے لئیے جھلاوان کے امن کو تہہ و بالا کردیا ہے سرکاری سردار کے تخریب کاروں کی عام آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری سے کئی افراد اب تک زخمی ہوچکے ہیں، سینکڑوں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سراوان، جھلاوان کے قبائلی عمائدین سمیت خان آف قلات کے خاندان کے اہم ارکان، قائم مقام صدرِ پاکستان علمائے کرام سمیت جتنے بھی معتبرین و معززین نے خیر خواہی کی کوشش کی سرکاری سردار نے انکا لحاظ نہ کیا بلکہ اپنی ضد اور انا پر ڈٹا رہا اور مصالحت کیلئیے آنے والوں کو مایوس کر کے بھیج دیا جب کہ حالیہ دنوں نواب محمد اسلم رئیسانی اور انکے وفد نے وڈھ کے مسئلے کے حل کے لئیے کوششیں کیں انکی کوششوں کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ نواب رئیسانی اور انکے وفد کو جنگ بندی کا یقین دلاکر سرداری ٹولے نے جنگ بندی کی دعا کے چند گھنٹوں بعد ہی ہمارے ایک ساتھی پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن وہ اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے اس کے علاوہ اس فسادی ٹولے نے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور وقتاً فوقتاً اپنے مورچوں سے عام آبادی کی طرف فائرنگ جاری رکھاجب نواب رئیسانی اور انکے وفد نے دوبارہ وڈھ کا دورہ کیا تو اس وقت بھی اس ٹولے نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی لیکن نواب رئیسانی کے جانے کے بعد حسبِ سابق اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی ہونے کے باوجود فائرنگ و گولہ باری شروع کردی جو تاحال جاری ہے، جھالاوان عوامی پینل کے رہنماﺅں نے کہا کہ وڈھ میں جنگی صورتحال پیدا کرکے بی این سربراہ اور انکے ایم پی ایز آنے والے الیکشن کے لیے کرپشن کے پیسوں سے بھاری اسلحہ جمع کر کے وڈھ پہنچاکر جنگ مسلط کردی اور آئندہ الیکشن کے لیے اپنے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں اور اس نام نہاد پارٹی کا سربراہ اسلام آباد میں بیٹھ کر وڈھ میں اپنی سیاست کی خاطر کشت و خون کرا رہا ہے۔ پانچ سال حکومت کا حصہ رہنے اور اور اربوں روپے بٹورنے کے بعد بی این پی سربراہ ترقیاتی کام کرنی کے بجائے وڈھ میں لاشوں پر سیاست کرکے اسمبلیوں تک دوبارہ پہنچنا چاہتا ہے۔اس جدید دور میں بھی نام نہاد قوم پرست پارٹی بی این پی مینگل کی لیڈر شپ تاریخ اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور وڈھ کے واقعات کو نگران حکومت سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ نگران حکومت کو آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے جبکہ وڈھ کو بی این پی سربراہ نے پچھلے دو ماہ سے یرغمال بنا کر زبردستی جنگ مسلط کردی ہے۔ اور اب جبکہ نگران حکومت کے وجود میں آتے ہی اس ٹولے نے نگران حکومت کو بلیک میل کرنیکی خاطر اپنے ظلم اور بربریت میں مزید تیزی لائی ہے۔ وڈھ کےعوام کو فائرنگ و گولہ بارود کے زریعے دباو میں ڈال کر سرکاری سردار اپنے سیاسی و گروہی مفاد و اپنی سلطنت کو دوام بخشنے کے لئیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے وڈھ کے غیور عوام اب اس ٹولے کے گھناو¿نے عزائم سے اچھی طرح واقف ہیں عوام اب اس سرکاری سردار کے ظلم و جبر کو مزید نہیں سہہ سکتے وڈھ کے غیور عوام اب سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اس ظالم جابر سردار کے ظلم کا مقابلہ کر رہے ہیں اللہ وہ وقت دور نہیں جب وڈھ کے عوام کو اس سرکاری اور مسلط کردہ سردار سے ہمیشہ کیلئیے چھٹکارا حاصل ہوگا انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے وڈھ میں جنگی حالات میں بند تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بحال کرائے تاکہ تین ہزار سے زائد طلبا کا مستقبل تباہی سے محفوظ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں