وڈھ، بولان میں قبائلی تنازعات پر غور جاری ہے، بلوچستان سے کالعدم تنظیموں کا خاتمہ کریں گے، زبیر جمالی

کوئٹہ (آئی این پی) نگراں وزیرداخلہ بلوچستان کیپٹن ر میر محمد زبیر جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے، خضدار کے علاقے وڈھ اور بو لان میں قبا ئلی رنجشوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں صورتحال پر کسی طو ر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ انہیں افہام و تفہیم سے حل کیا جا ئے گا ۔وڈھ کی عوام کے تحفظ کے لیے فورسز موجود ہیں وہ نقل مکانی نہ کریں۔ایک انٹر وویو میں نگراں وزیرداخلہ کیپٹن ر میر محمد زبیر جمالی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال قدرے بہتر ہے وہ بلوچستان کے تمام اضلاع کا سرپرائز وزٹ کررہے ہیں عوام کو نگراں حکومت سے بہتر امیدیں وابستہ ہیں نگراں حکومت کاکام ملک میں شفاف الیکشن کروانا ہے مگر ساتھ ساتھ امن وامان بھی انکی زمہ داری میں شامل ہے انکا کہناتھا کہ خضدار کے علاقے وڈھ میں دو فریقین کے درمیان کشیدگی کی صورتحال ہے تاہم حکومت اس بارے میں خاموش ہرگز نہیں ہے اس حوالے سے انہوں نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان سے ملاقات کی ہے اور میر شفیق مینگل سے بھی انکی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے یہ قبائلی معاملات ہیں انہیں افہام وتفہیم سے حل کیا جائے گا اس سلسلے میں انہوں نے نواب اسلم رئیسانی اور نواب حاجی لشکری رئیسانی سے بھی ملاقات کی ہے انکا کہناتھا کہ جرگہ اس کا واحد حل ہے اس میں انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نوابوں ،سرداروں ، قبا ئلی عما ئدین اور علما ءکرا م کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے انکا کہناتھاکہ وڈھ کے عوام کے تحفظ کے لیے قانون نافظ کرنے والے ادارے موجود ہیں وہ اپنے علاقے سے نقل مکانی نہ کریں ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھاکہ بلوچستان میں کا لعدم تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا انکا کہناتھا کہ بولان سمیت وڈھ میں جو قبائلی معاملات ہیں اس نے انہیں نگراں وزیراعظم انوارالحق کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتادی ہیں اور نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میرعلی مردان ڈومکی کی زیر ہدایت ان قبائلی معاملات پر سنجیدگی سے غور وفکر جاری ہے جلدی ہی انہیں احسن طریقے سے حل کیا جائے گا انکا کہناتھا کہ بلوچستان کاصوبہ پاکستان کے 44 فیصد رقبے پر محیط ہے لاکھوں لوگ بلوچستان میں ا¿باد ہیں انکے جان ومال محفوظ ہیں ان کے جان ومال کی حفاظت کے لیے فورسز موجود ہے انکا کہناتھاکہ شاہراہوں پر چوری رہزنی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں ان شاءاللہ جلد ہی بلوچستان امن کی راہ پر گامزن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں