پشتون ایس ایف کے تنظیمی معاملات میں بیرونی مداخلت قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا
پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تنظیمی معاملات میں کسی کو بھی مداخلت اور دخل اندازی کی اجازت نہیں دیں گے۔ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اپنا آئین و منشور اور ادارے موجود ہیں جو اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے تمام تر فیصلوں میں آزاد اور خود مختیار ہے۔ تنظیم کے اندر جب بھی باہر سے مداخلت ہوئی ہے اسکے نتائج تباہ کن ہی رہے ہیں جسکا خمیازہ تنظیم کو ہی بھگتنا پڑا ہے. اور جنہوں نے کبھی ایسا مکروہ کردار ادا کیا ان کا منہ ہمیشہ کالا ہی ہوا ہے. پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اندر اسٹبلشمنٹ کا کردار ادا کرنا بند کیا جائے کہ جسے چاہا اکھاڑ اور پچھاڑ دیا اور جسے چاہا تنظیم پر مسلط کردیا گیا. بیان میں مزید کہا گیا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کو یرغمال بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پشتون سٹوڈنٹس سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام اور وجود بطور ایک آزاد و خود مختیار تنظیم کے طور پر رہا ہے. نہایت ہی افسوسناک امر ہے کی تنظیم کے اندر موجود نااہل اور خودغرض عناصر، جو کہ تنظیم پر گھس پیٹیوں جیسے مسلط کیے گئے ہیں، کالی بھیڑے بن کر تنظیم کی خودمختاری پر حملہ آور ہیں. اس سنگین اور عظیم جرم میں ملوث کرداروں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی. بیان میں خبردار کیا گیا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے بقاء کی جنگ لڑنا خوب جانتا ہے جس نے بھٹو، ضیاءالحق اور مشرف جیسے آمروں کا سامنا ہمت اور جوانمردی سے کیا ہے. تنظیم کے اندرونی معاملات میں کسی کیلئے بھی مداخلت کا کوئی سیاسی، جمہوری، تنظیمی، آئینی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ہے لہٰذا مداخلت کرنے والے اپنے ہاتھ کھینچ لیں وگرنہ نتائج سے خبردار کرتے ہیں.


