عہد ساز شخصیت مبارک قاضی کی رحلت بلوچ قوم کیلئے صدمہ ہے، تنظیم 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے، بساک

تربت (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) نے کہاہے کہ بلوچ زبان کے عظیم شاعر مبارک قاضی کی رحلت قومی سانحہ ہے، تنظیم تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں مبارک قاضی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عظیم شاعر کی رحلت بلوچ قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مبارک قاضی نہ صرف بلوچی زبان کے نامور شاعر اور ادیب تھے بلکہ بلوچ قوم کے ایک مزاحمتی باب تھے جو کہ اپنے کردار اور فن کے ذریعے مزاحمت کررہے تھے۔ مبارک قاضی اس زمانے کے ان عظیم کرداروں میں سے ایک ہیں جو ظلم کے سامنے پہاڑ کی طرح مضبوط کھڑے رہے اور طاقتوروں کیخلاف ایک انقلابی طاقت کے طور پر لڑتے رہے۔ وہ خیر بخش مری اور صباءدشتیاری کے فلسفے کے مسافر تھے جو اپنا فرض بخوبی سرانجام دیکر چلے گئے۔ انہوں نے اپنی شاعری سے بلوچ قوم کے احساسات اور بلوچستان کے حالات کو الفاظ دے کر ان کی حقیقی نمائندگی کی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مبارک قاضی ایک شاعر اور ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی کردار بھی رہے جو کہ بلوچ سیاسی جدوجہد میں اول صفوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اس سیاسی سفر میں ہر طرح کا ظلم سہا اور جبر کے سامنے دلیری سے ڈٹے رہے۔ ان میں جیل اور کال کوٹھڑیوں کی وہ داستان بھی شامل ہیں جب انہیں سیاسی جدوجہد اور مزاحمتی شاعری پر پابند سلاسل کیا گیا اور مختلف ہتھکنڈوں سے انہیں ڈرایا دھمکایا گیا مگر اس عہد ساز شخصیت کے سامنے یہ سارے ظلم و جبر کچھ بھی نہیں تھے اور نہ ہی ان ہتھکنڈوں سے وہ مبارک قاضی کو پیچھے ہٹا سکے بلکہ وہ اپنی جدوجہد میں مگن بلوچستان کی کہانی کو الفاظ دیتے رہے۔ آپ کبھی اپنی شاعری کے فن سے عرش کو جھنجھوڑتے رہے تو کبھی بلوچ قومی فکر کی گلی کوچوں میں ترجمانی کرتے رہے۔ مبارک قاضی اپنے فن سے انصاف کرتے ہوئے حقیقی طور پر بلوچ قوم کے لیے اپنا کردار نبھا کر چلے گئے، آپ نے بلوچستان کی تاریخ میں خود کو امر کردیا جو تاابد بلوچ مزاحمتی تاریخ میں زندہ رہے گا۔ ترجمان نے آخر میں کہا کہ مبارک قاضی کی رحلت پر پوری قوم سوگ میں ہے، مبارک قاضی کی رحلت پر تنظیم تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے اور تین روز تک تنظیم کی تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں