افغان عوام پاکستان میں یو این قوانین کے تحت رہ رہے ہیں، بزور طاقت نکالنے کی مذمت کرتے ہیں، خوشحال کاکڑ

کوئٹہ (یو این اے) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتون افغان عوام کا کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں، تمام ملت بدترین تباہی و بربادی، تنزلی کا شکار ہے اور وطن کے ہر سیاسی پارٹی، تحریک، تنظیم اور ہر طبقے کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ پشتونخوا وطن کی تقسیم، قومی واک و اختیار سے محرومی اور قومی محکومی مزید قابل برداشت نہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے آر پار آباد پشتون افغان عوام کو مسلسل لاقانونیت بد امنی، دہشت گردی، بھوک غربت اور اذیت ناک مسافرانہ زندگی کا سامنا ہے۔ انہیں اس ملک کے کسی حصے میں ملکی قوانین کے تحت بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں معدنی وسائل سے مالا مال ملت آج قومی غلامی کے دلدل میں پنس کر مزدور اور مسافر قوم میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیخان علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام ممتاز سیاسی وسماجی رہنما حاجی محمد یوسف بڑیچ کی قیادت میں علاقے کے سیاسی سماجی قبائلی معتبرین اور سینکڑوں نوجوانوں کی پارٹی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے پارٹی رہنماں سید عبد القادر آغا ایڈووکیٹ، محمد عیسی روشان، سابق ایم پی اے نصر اللہ خان زیرے، خوشحال خان کاسی، رزاق بڑیچ، علی محمد ترین، حاجی محمد یوسف بڑیچ، حاجی محمد علی بڑیچ، حاجی جمیل خان بڑیچ، حاجی محمد عیسی خان لالا، جبار خان مندوخیل نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ تلاوت حافظ شبیر احمد بڑیچ نے کی۔ پشتونخوا میپ کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون افغان عوام کی جاری نسل کشی معاشی بربادی اور ہر شعبہ زندگی میں تنزلی کی بنیادی وجہ قومی خود مختار صوبے اور قومی واک و اختیار سے محرومی ہے۔ پشتون افغان عوام کے ہر طبقے اور ہر پارٹی نے اس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ کر کے اپنی ذمہ داری فوری کرنی ہوگی۔ پشتون افغان ملت کو درپیش سنگین صورتحال پر مزید خاموشی اور بے حسی مزید بربادی کا باعث ہوگی اور اس کے زمہ دار وہ تمام سیاسی قوتیں اور باشعور طبقات ہونگے جو اس اذیت ناک صورتحال کو سمجھنے کے باوجود خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور سیاسی جد وجہد کے معنی صرف ووٹ کا حصول نہیں بلکہ پشتون افغان ملت کی قومی برابری، سیالی، قومی واک و اختیار کا حصول اور اپنے وطن کی حق ملکیت اور حق حاکمیت حاصل کرنا ہے۔ ممبر اسمبلی کی حیثیت سے چند معمولی ترقیاتی اسکیموں کے بدلے قومی برابری، قومی واک و اختیار اور اپنے قومی وسائل پر کنٹرول کے حق سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر پھر دہشت گردی مسلط کر کے ہمارے قوم کا کوئی طبقہ محفوظ نہیں باجوڑ میں جمیعت کے پروگرام پر حملہ اور انکے رہنما حافظ حمد اللہ پر حملہ منصوبہ بند سازش کے تحت ہوئے ہیں اور حکومت اسکی جو محرکات بیان کر رہے ہیں وہ ہمارے عوام کو قابل قبول نہیں بلکہ ہمارے ملت کے سامنے اب یہ سوال درپیش ہے کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے ہوئے بحیثیت قوم اس ملک میں عدم تحفظ کے شکار مسافر اور مزدور کے حیثیت سے رہینگے۔ اور ہمیں قومی اتحاد و اتفاق اور جدوجہد کی ہر شکل پر غور کرتے ہوئے جدوجہد میں مزید تیزی پیدا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے فاشسٹ تنظیم کے مہاجر گورنر کی جانب سے پشتون افغان عوام کے خلاف بدزبانی اور بیانات قابل مذمت، قابل گرفت اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان کڈوال عوام کی ہمارے ملک میں آمد ہمارے ہی ملک کی مداخلت کے باعث ہوا ہے اور افغان کڈوال عوام پاکستان میں یو این کے قوانین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں انکے خلاف منفی پروپیگنڈے اور انہیں بزور طاقت نکالنے کی باتوں کی مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ افغان کڈوال عوام کی وجہ سے یو این اور دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے کڈوال عوام کے نام پر اربوں ڈالر ملتے ہیں بلکہ افغان کڈوال عوام کی نسل درنسل یہاں پیدا ہونے اور رہنے کے باعث بین الاقوامی اصول کے تحت وہ یہاں کے شہریت کے حقدار بن گئے ہیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں افغان عوام کو شہریت دینے کی معقول تجویز سامنے آئی تھی لیکن پشتون دشمن قوتوں نے اس بین الاقوامی اصول کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ تنظیم سے تعلق رکھنے والے سندھ کے گورنر خود مہاجر ہے اور ملک میں انکی آبا و اجداد کی تاریخ نہیں اور افغان کڈوال عوام کے خلاف غیر قانونی، غیر انسانی اقدامات پر خاموش نہیں رہنگے اور ملک بھر بالخصوص کراچی میں افغان کڈوال عوام خصوصا عورتوں بوڑھوں اور بچوں کی گرفتاری کے خلاف پرزور احتجاج کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک کے عوام کے خلاف حکومتی اداروں کی کارروائی غیر قانونی اور قابل مذمت ہے اور اس کا مقصد سیاحت کی وجہ سے اہمیت کے حامل ہنہ اوڑک کے زمینوں، پہاڑوں اور پانی پر قبضہ کرنے کی سازش ہے۔ ہنہ اوڑک کے تمام علاقے کی ملکیت کے حقوق وہاں کے غیور عوام کے پاس ہیں پشتونخوا میپ ہنہ اوڑک کے عوام کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ممتاز معتبرین اور جوانوں کی شمولیت قابل تحسین اقدام ہے شمولیت کرنے والوں نے پارٹی صفوں میں اپنے آپ کو منظم کرکے پارٹی کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہوئے اس کے پروگرام کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اگر ہم اور آپ متحد ہو کر نظم و ضبط کے ذریعے جاری جدوجہد کو مزید تیز کرے تو ہمارے غیور عوام پر مسلط قومی محکومی سے ضرور نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد افغانستان میں جاری مداخلت کسی پشتون اور افغان کو قابل قبول نہیں اور افغانستان کی استقلال، سلامتی، عارضی تمامیت اور انہیں ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہر پشتون و افغان کا قومی فرض ہے۔ 40 سال سے زائد مسلط جنگ نے افغانستان کے ہر شعبے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے اور آج اسکے تمام قومی اداروں کی تباہی کے بعد انکے عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں جس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ہر شعبہ زندگی میں محکوم اقوام کی برابری تسلیم کرنا لازمی اور ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسی بنانے میں تمام اقوام کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اور بالخصوص افغانستان کے حوالے سے ہر قسم کی پالیسی بنانے میں یہاں کے پشتونوں کی رائے کو شامل کرنا لازمی ہے اور ہمارے ملت کی شمولیت کے بغیر کوئی پالیسی قابل قبول نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں