جامعہ گوادر کے کے وفد کی چین کی وزارت خارجہ کے امور ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل لیو جنسونگ سے ملاقات

کوئٹہ( این این آئی) جامعہ گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبد الرزاق صابر کی سربراہی میں خطہ گوادر کے ایک وفد سے چین کی وزارت خارجہ کے امور ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل لیو جنسونگ نے ملاقات کی۔ لیو نے سربراہ وفد اور دیگر ممبران کو چینی سر زمین پر خوش آمدید کہا اور تمام ارکان کے ساتھ انفرادی گفتگو کی۔ بات چیت میں دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کو مرکز گفتگو رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک عشرے میں جن منصوبوں پر کام کیا گیا ان میں دونوں دوست ممالک کی کاوشیں سراہے جانے کے قابل ہیں۔ اس میں کئی اہم منصوبے شامل رہے ہیں جن میں بندر گاہیں، ہوائی اڈے، شاہراہیں، پل، ہسپتال اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو مکمل کرنے کے بعد فعال کر دیا گیا ہے جو نہ صرف قومی و اجتماعی ترقی کی راہ ہموار کریں گے بل کہ گوادر کے مقامی لوگ بھی ان منصوبوں سے فیض پا رہے ہیں۔لیو نے بتایا کہ چین پاکستان میں بالعموم جب کہ بلوچستان اور گوادر میں بالخصوص اقتصادی ترقی اور دیگر فلاحی امور کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے جس کے حصول کے لئے سرمایہ کاری جاری ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاک چین دوستی کے برگ و ثمر سب کے لیے یکساں ہیں جس سے تمام خطوں اور قبائل کے لوگ فایدہ اٹھا رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کے عوام کے لیے اجتماعی مفاد کا ذریعہ ہو گا۔ نہ صرف گوار بندر گاہ بلکہ دیگر تمام منصوبے بھی باہمی مشاورت اور ٹھوس منصو بہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں جن کا مقصد محض عوامی فلاح ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد پاکستان کی خودمختاری کا احترام اور نچلے طبقے کی اجتماعی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں رہائشی چینی شہریوں کو پاکستان کے قوانین کی پاسداری ہر صورت کرنا چاہیے، دو طرفہ تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے انصاف کو برقرار رکھیں، پاکستان میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کریں نچلے طبقے کی بہتری اور خیراتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان حکومت ، تھنک ٹینکس ، جامعات ، عوامی اداروں ، میڈیا اور دیگر طبقات کے ساتھ رابطوں میں تیزی لائی جائے اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے کی سعی کی جائے۔ تعلیم سمیت دیگر روزگار کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رہے گا۔ تاکہ عوام علاقہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ان کے روشن مستقبل، اعلی معیار اور دیر پا فوائد کا ضامن ہے۔لیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو تعلقات مزید بہتر کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان تعلقات کی بہتری کے لیے سلامتی بنیادی شرط ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی وجوہات سے نمٹنے کی کوشش کی جائے۔ مستقل امن اور استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ غربت، بے روزگاری کو جڑ سے ختم کیا جائے اور اپنے ذاتی معاملات میں بیرونی مداخلت کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں۔لیو نے کہا کہ چین قوی امید رکھتا ہے کہ پاکستان سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کو خاص اہمیت دے گا۔ اتفاق رائے سے باہمی ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔ لیو نے دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ لیو نے شکر پڑیاں پارک میں واقع یادگار پاکستان پر لکھے اقبال کے اس شعر کا تذکرہ بھی کیا افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ لیو نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اس قوم کی خود اعتمادی اور یقین پر منحصر ہے۔ معاشی طور پر بہتر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ بندرگاہیں اور سڑکیں بنائی جائیں، پائلٹ پروجیکٹس اور اقتصادی زونز بنائیں جائیں۔ زراعت بھی کسی قوم کے استحکام کی ضامن ، صنعتی ترقی کے بغیر آگے بڑھنا نا ممکن ہے، تجارت زندگی کو آگے بڑھانے کا باعث ہے۔ چین میں کی گئی اصلاحات سے پاکستان سیکھ سکتا ہے۔ حکومت چین پر امید ہے کہ پاکستان سیاسی استحکام اور ان منصوبوں کے تسلسل کو قائم رکھے گا اور اپنے حالات کو مد نظر رکھ کر ترقی اور خوش حالی کی منازل طے کرتا رہےگا۔ سربراہ وفد ڈاکٹر صابر اور دیگر اراکین نے پاک چین تعلقات اور پاکستان کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے عوام محنتی، مہذب، شائستہ، منظم، اور شفیق ہونے کے ساتھ ساتھ معاملات زندگی پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں جو قابلِ تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی میں چین کی کامیابوں کے معترف ہیں اور صدر شی جن پنگ کے قیادت میں چین نے ہمسایہ ملک ہونے، اور اسی بنیاد پر خلوص اور باہمی فائدوں کو مد نظر رکھ کر سفارت کاری کی جو قابلِ ستائش ہے۔ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ چین سے ان کی دوستی بے مثال ہے۔پاک چین دوستی حکومتی سطح پر مبنی ہے اور دونوں ممالک کی عوام میں باہمی اتفاق ہے۔ وفد نے کہا کہ پاکستان بیلٹ ایند روڈ انیشٹو کو جواب دینے میں سر فہرست رہا۔ پچھلے کئی سالوں سے پاک چین اقتصادی راہداری کے تعمیراتی منصوبوں پر کام تسلسل سے جاری ہے جن دیگر علاقوں کے ساتھ خاص کر بلوچستان اور گوادر کی ترقی میں ایک اہم قدم ہے گوادر کے عوام اس بات کا فہم و ادراک رکھتے ہیں کہ سی پیک کی تاثیر، جامعیت، اور عالمی فوائد ان کی ترقی کے ضامن ہیں۔ اس میں کوئی دوہری رائے نہیں کہ پاکستان کے عوام نے چین کے منصوبوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ دفد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ مزید تعلقات بڑھانے اور منصوبوں پر عملی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ پاک چین تعلقات یونہی پھیلتے پھولتے رہیں اور یہ دوستی نسل در نسل مزید مضبوط ہوتی رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں