کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے حوالے سے معمولی پیشرفت بھی نہیں ہوئی، بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہ(آن لائن)عدالتی احکامات کو جس طرح بالائے طاق رکھا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں بالعموم اور کوئٹہ شہر میں بالخصوص گورننس کی صورتحال معدوم ہو گئی ہے یہ ریمارکس بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جناب جسٹس محمد کامران خان ملا خیل اور جناب جسٹس اقبال احمد کاسی پر مشتمل بینچ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے دائر ائینی درخواست پر احکامات جاری کرتے ہوئے دیے۔ معزز عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ہر سماعت پر حیلے بہانے پیش کر دیے جاتے ہیں یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، معزز عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود زرغون روڈ پل کے نیچے پلاٹ کا تنازعہ کیو ایم سی اور کیو ڈی اے کے مابین جوں کا توں موجود ہے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعلقہ حکام اس پر توجہ دینے اور ضروری اقدامات سے گریزاں ہیں اسی طرح مفاد عامہ کی درخواستوں کے ضمن میں عدالت عالیہ کے بارہا احکامات کے باوجود ٹریفک مینجمنٹ، لوکل بسوں کے روٹس کی ری ڈیزائننگ،غیر قانونی رکشوں کی روک تھام اور لو کل بسوں کے کوئلہ پھاٹک اور سریاب پھاٹک پر سٹاپ قائم کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی معمولی پیشرفت بھی نہیں ہوئی ہے معزز عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود متعلقہ حکام ”چیف سیکرٹری بلوچستان کمشنر کوئٹہ ڈویڑن اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ” کی عدالت میں حاضری ممکن نہیں ہو پا رہی عدالت عالیہ کو ایک جانب بتایا جاتا ہے کہ چیف سیکرٹری کا سراغ نہیں مل رہا تو دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کی عدم دستیابی پر بتایا جاتا ہے کہ وہ چیف سیکرٹری کے ساتھ میٹنگ میں مصروف ہیں اس تمام صورتحال میں عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا کہ چیف سیکرٹری اگلی سماعت پر عدالت میں بذات خود پیش ہوں – معزز عدالت نے سی پی نمبر 824 /2016 اور سی پی نمبر 804/ 2020 اور زیر بحث پٹیشن کے احکامات کی کاپیاں اطلاع اور تعمیل کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان کو بھجوانے کا حکم دیا – معزز عدالت نے چیف سیکرٹری کو عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں زرغون روڈ پل کے نیچے پلاٹ بارے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ متعلقہ کیو ڈی اے اور کیو ایم سی حکام کی میٹنگ بلانے کا بھی حکم دیا مزید چیف سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ /چیئرمین صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی, کمشنر /چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ڈی جی ٹریفک انجینیئرنگ بیورو کے ساتھ میٹنگ کر کے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے لیے عدالتی احکامات کی تعمیل میں میکنزم وضح کریں تاکہ لوکل بس کے روٹس کو ری ڈیزائن اور شہر کے کاروباری مرکز کے لیے شٹل سروس کے امکان پر کام کیا جا سکے- معزز عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر 12 کور اور کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کے ساتھ بھی میٹنگ کریں اور کوئلہ پھاٹک کے قریب یا اس کے آس پاس بس سٹاپ کے قیام کے امکانات پر کام کریں قبل ازیں عدالت کو کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ کوئلہ پھاٹک کے آس پاس کی ز مین سی بی کیو کے کنٹرول میں نہیں ہے اور اس کی مینجمنٹ سولجر ویلفیئر ارگنائزیشن کوئٹہ (SWOQ)سے کی جاتی ہے اس پر معزز عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے اور پراپرٹیاں پاکستان کے عوام کے لیے ہیں چاہے جتنی بھی اعلیٰ کیوں نہ ہو لہذا ڈائریکٹرSWOQ کو بذات خود عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا جائے تاکہ وہ یہ بتا سکیں کہ کوئلہ پھاٹک کے ارد گرد کی زمین کیوںصوبے یا ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو کوئٹہ شہر کے باسیوں کی فلاح و بہبود اور بس سٹاپ قائم کرنے کے لیے نہیں دی جا سکتی؟ معزز عدالت نے اولڈ فروٹ اور ویجیٹیبل مارکیٹ کے لیے مجوزہ زرغون روڈ (ڈبل روڈ) سے سریاب لنک روڈ بمقام ریلوے پھاٹک کے پرانے منصوبے کو عدالت میں دو بارہ جمع کرانے کا پھر سے حکم دیا- معزز عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو سرکولر روڈ پارکنگ پلازہ کے مسئلے کے حوالے سے عدالتی احکامات کی روشنی میں ان کے دستخط سے جاری جامع رپورٹ اگلی پیشی پر ہمراہ لانے کا بھی حکم دیا۔معزز عدالت نے تمام حکام کو اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے حکم نامے کی کاپیاں ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان،ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان کے افس، درخواست گزار، چیف سیکرٹری بلوچستان،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلی بلوچستان، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،کمشنر کوئٹہ ڈویڑن، ڈائریکٹر جنرل کیو ڈی اے، ڈائریکٹر جنرل ٹریفک انجینئرنگ بیورو، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ایڈمنسٹریٹر کیو ایم سی، سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ، پروونشل سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ایس ایس پی ٹریفک،ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ اور ڈائریکٹر SWOQ کوئٹہ کو اطلاع اور تعمیل کے لیے بھجوانے کا بھی حکم دیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں