استحصالی طبقہ ہرنائی، زیارت اور ہنہ اوڑک میں حالات خراب کرنے میں مصروف ہے، خوشحال خان

ہرنائی (یو این اے) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ زیرے نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن میں ہر علاقے کو زرغون غر کی طرح قدرتی حسن اور سیاحتی لحاظ سے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے مگر قومی غلامی کی وجہ سے ہم اپنے جنت نظیر وطن کی خوبصورتی اور اسکے وسائل کو اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ حکمرانوں، حکومتوں اور محکمہ جنگلات کی مسلسل غفلت، عدم دلچسپی اور لاپرواہی کی وجہ سے زرغون غر کے قیمتی درخت اوبشتہ(صنوبر)کے جنگلات زبوں حالی کا شکار ہے اور اس قومی ورثے کی بے دردی اور بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے جو باشعور عوام اور جنگلات کی اہمیت کو سمجھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ان خیالات کا ظہار انہوں نے زرغون غر کے علاقے "ولہ” کے مقام پر حاجی حبیب اللہ خان دمڑ، شہاب الدین خان دمڑ، عبدالرحیم دمڑ، امیر محمد، بہادرخان، طوطی خان اور گل حسن دمڑ کی سربراہی میں 211 خاندانوں کی پشتونخوا میپ میں شمولیت کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے جب پارٹی رہنما زرغون غر کے علاقے میں پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ان کو موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے طویل جلوس میں طور شور پہنچایا گیا جہاں عبدالرحیم دمڑ کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیاگیا تھا۔ شمولیتی اجتماع اور استقبالیہ میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز عبدالفیاض، عبدالرزاق بڑیچ، علی محمد ترین پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اراکین عبدالعلی شموزئی، ملک نورالدین خان، حاجی میرا جان، پشتونخوا ایس او کے زونل آرگنائزر لطیف خان، ڈپٹی آرگنائزرز صبور خان کاکڑ، حیات ہنہ وال، پارٹی ہنہ اوڑک کے علاقائی سیکرٹری ہدایت افغان، ملک ناصر خان کاکڑ، دوست محمد سارنگزئی، نصیب اللہ خان نواں کلی کے علاقائی سیکریٹری باچا خان، ملک آصف خان کاسی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر زرغون غر علاقائی آرگنائزنگ باڈی کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا جس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔ مقررین نے کہا کہ ہرنائی کا علاقے زرغون غر جنوبی پشتونخوا کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے جس میں جنگلات کے علاوہ اور بہت سارے قدرتی معدنیات اور گیس کے ذخائر وسیع پیمانے پر موجود ہے اسی طرح ضلع ہرنائی کے دیگر علاقے خوست، شاہرگ، نسکہ، ہرنائی، سپین تنگئ بھی وسائل سے مالا مال ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ زرغون غر کے عوام آج جس پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہے اس علاقے میں علاج معالجہ اور تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں، بڑی سڑک اور چھوٹے سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے حالانکہ اگر زرغون غر کے عوام اپنے وسائل کے خود مالک ہوتے تو آج اس علاقے کے عوام کی معاشی حالت مثالی اور آباد و خوشحال زندگی گزار رہے ہوتے لیکن اب حالت یہ ہے کہ ہر طرف غربت، بھوک و افلاس ہے اور عوام کی اکثریت غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پرمجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ نے مٹھی بھر عناصر کے ساتھ ملکر اور انہیں انتہائی محدود مراعات کے بدلے میں ہزاروں ایکڑ اراضی کو غیر قانونی الاٹمنٹ کے نام پر قبضہ کر لیا ہے اس کے علاوہ ایک عوام دشمن منصوبے کے ذریعے زرغون غر کے وسیع وعریض سرزمین کو جعلی طریقے سے مختلف ناموں پر انتقال کردیا گیا اور اب اس زمین کو ڈی ایچ اے پر فروخت کرنے اور اسکے ذریعے اربوں روپے کمانے کے منصوبے بنائے گئے ہیں جو اس علاقے کے عوام کو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے حکمران، ریاستی سیکورٹی ادارے بالخصوص پنجاب کے استعماری طبقات ایک سازش کے تحت پشتونخوا وطن اور بالخصوص ہرنائی، زیارت اور ہنہ اوڑک میں حالات کو خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور مصنوعی دہشتگردی کا بہانہ کرکے ان علاقوں پر مستقل تسلط قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں جسکی واضح مثال ریاستی سیکورٹی اداروں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں دہشتگردی کے واقعات ہیں جو سیکورٹی اداروں اور دہشتگردوں کے درمیان گٹھ جوڑ اور قریبی تعلق کو ظاہر کرتا ہے اور اب تو ان تعلقات کا علم تمام پشتون عوام کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی معدنیات سے مالامال علاقوں میں ایف سی نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ایک جانب امن وامان کے نام پر روزانہ کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے عوام کو تنگ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف امن وامان کے بنیادی فرض سے غافل ہوکر عوام کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں