بلوچستان واٹر کمیشن کی نشاندہی پر رپورٹس تجاویز کیساتھ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے، امان اللہ کنرانی

حب (این این آئی) نگران صوبائی وزیر قانون وچیئرمین واٹر کمیشن امان اللہ کنرانی نے واٹر کمیشن کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ دورے کا مقصد محنتی افسران کو ڈی مورالائز کرنا نہیں بلکہ ٹیکنیکل ایشوز کی نشاندہی اور اداروں کی معاونت کرنا ہے انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس تعیناتی کے بعد مجھے بطور چیئرمین واٹر کمیشن کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے امان اللہ کنرانی نے کہا کہ واٹر کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے مینڈیٹ کے تحت دی گئی 2018 میں قائم کی گئی واٹرکمیشن کی کوششوں سے گڈانی میں بی ڈی اے کا آراوپلانٹ آپریشنل ہوا واٹرکمیشن کی نشاندہی پر سبی نصیرآبادبھاگ ناڑی گڈانی گوادر میں واٹرایشوز کی نشاندہی کی گئی صوبائی وزیرقانون نے کہا کہ واٹرکمیشن نے سپریم کورٹ میں دورپورٹس تجاویز کیساتھ جمع کرائیں لیکن ان پر ایکشن نہیں لیا گیا اب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس بننے کے بعد ریوائزڈ رپورٹس تجاویز کیساتھ سپریم کورٹ جمع کرائینگے۔ہمیں توقع ہیکہ ان پر عملدرآمد ہوگا۔ بی ڈی اے کے حوالے سے عام تاثر دیا جاتا ہے کہ افسران مفادعامہ کی اسکیمات بروقت مکمل نہیں کرپاتے افسران کو کارکردگی بہتر بنانی ہوگی مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں مل جل کر ایشوز کو حل کیا جاسکتا ہے صوبائی وزیرقانون نے کہا کہ کوئٹہ انتظامی کیپیٹل سٹی جبکہ گوارراورحب اکنامک کیپٹل سٹیز ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی بلوچستان کی خوشحالی سے وابستہ ہے افسران کو بجٹ پر انحصارکرنے کے بجائے وسائل پیداکرنے پر توجہ دینی ہوگی اجلاس میںضلع کونسل حب کے چیئرمین ابراہیم دودا ، چیئرمین میونسپل کا رپو ریشن حب وڈیرہ بابو فیض محمد شیخ ، چیئرمین میونسپل کمیٹی گڈانی وڈیر ہ جان شیر حمید بلو چ، بی ڈی اے کے ڈائر یکٹر کیپٹن ریٹائرڈ جاوید ، ایکسین ایریکیشن عبد الجبار زہری ،سب انجینئر پی ایچ ای محمد اقبال مندوخیل نے ضلع حب میں شہریوں کو پا نی کی فراہمی کے حوالے سے پیش آنے والی مشکلات سے آگا ہ اور ان کے حل کے سلسلے واٹر کمیشن کو اپنی اپنی تجاویز یں پیش کیں جبکہ ایم ڈی لیڈافرید محمد حسنی نے صنعتکا روں کے حوالے سے بھی آگا ہ کیا اس موقع پر واٹر کمیشن کے ٹیکنکل اسسٹنٹ عثمان بابئی ، تحصیلدار حب گل نو از ، بی ڈی اے کے مینجر منیر احمد بزنجو ، نجیب احمد ،اے جی ایم محبت خان بابر ، سب انجینئر پی ایچ ای اویس رونجھوسمیت دیگر سرکا ری افسران موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں