سینیٹر مشتاق احمد کا ریپ کیسز میں ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ، شیری رحمان کی مخالفت
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ریپ کیسز میں ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک ریپ کے مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دیتے ہیں کیا وہاں یہ جرم ختم ہوگیا؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ریپ کے مجرموں کو عمر قید اور سزائے موت کی جگہ سرعام پھانسی کی سزا کا بل پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریپ ایک گھناﺅنا جرم ہے لیکن سرعام پھانسی اس کا حل نہیں ہے، جو ممالک ریپ کے مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دیتے ہیں کیا وہاں یہ جرم ختم ہوگیا ہے؟ سرعام پھانسیوں سے معاشرے میں ریپ ختم نہیں ہوگا، اس سے معاشرے میں تشدد کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں سرعام پھانسی کو ختم کیا گیا ہے، سر عام پھانسی کی سزا ضیا الحق کی آمریت میں دی جاتی تھی، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرعام پھانسی دینے سے یہ جرم ختم ہو جاتا ہے۔


