تربت یونیورسٹی انتظامیہ کا آمرانہ رویہ بلوچ طلبا پر متشددانہ نفسیاتی وار ہے ،بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ

تربت(پ ر)بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تُربَت یونیورسٹی انتظامیہ کا اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاکر بلوچ طلباء کے ساتھ آمرانہ رویہ روا رکھنا بلوچ طلباء پر ایک نفسیاتی وار ہے۔ ہم اسکی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ نے روز اول سے تعلیمی ادارہ کو درسگاہ سے زیادہ ایک جیل خانہ بنا دیا گیا ہے، جس میں مختلف Tactics کو بروئے کار لا کر بلوچ طلباء کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں طلباء کے ساتھ اس طرح کا آمرانہ رویہ رکھنا بلوچ طلباء کے سوچنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو روکنے کیلئے مرتب کردہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، جسکے خلاف بلوچ طلباء کو ایک توانا قوت کے ساتھ جدوجہد کرکے اپنے تعلیمی اور آئینی حقوق کیلئے آواز اٹھانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ اپنے اس آمرانہ رویہ اور متشددانہ نفسیاتی وار کو آئینی لبادہ پہنانے کیلئے کبھی نام نہاد ڈسپلینڑی کمیٹی کا سہارا لیکر بلوچ طلباء کو حراساں کرنے کیلئے مختلف حربوں کو استعمال کرکے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی نوٹیفیکیشن جاری کرکے طلباء کے سیاسی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم طلباء کے غیر نصابی سرگرمیوں کو روکنا خود ایک غیر آئینی عمل ہے۔ حالانکہ آرٹیکل 19 میں یہ بات واضح ہے کہ ہر شہری اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز بلند کرسکتا ہے، تقریر اور تحریر کر سکتا ہے، جو کہ یہ ازخود انتظامیہ کی جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو مسترد کرتا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان کے آخر میں کہا کہ تُربَت یونیورسٹی انتظامیہ اپنے آمرانہ رویے کو ترک کرکے غیر آئینی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ تاکہ بلوچ طلباء اپنے تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے پرسکون ماحول میں تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو جاری کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں