تربت یونیورسٹی کو چھاﺅنی بنا دیا گیا ہے، انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں، بی ایس او پچار

تربت (انتخاب نیوز) بی ایس او پجار تربت یونیورسٹی یونٹ کا اجلاس زیر صدارت یونٹ سیکرٹری مروان بلوچ منعقد ہوا جس کے مہمان خاص بی ایس او پجار کے مرکزی کمیٹی کے ممبر باہوٹ چنگیز اور اعزازی مہمانان میں ڈپٹی آرگنائزر یاسر بیبگر اور آرگنائزنگ باڈی کے ممبر سائرہ امام تھے۔ اجلاس میں شہدائے بلوچستان کے لئے 2 منٹ کی خاموشی، تعارفی نشست، شاعر گلزمین مبارک قاضی کی یاد میں پروگرام، یونیورسٹی نوٹیفیکیشن کینسل کرنے کے لئے مہم اور آئندہ کے لائحہ شامل تھے۔ اجلاس میں سی سی ممبر باہوٹ چنگیز، ڈپٹی آرگنائزر یاسر بیبگر، آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ساہرہ امام اور یونٹ سیکٹری مروان بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا تربت یورنیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن کا سختی سے مزمت کرتے ہیں۔ تربت یورنیورسٹی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن ملکی آئین کے خلاف ورزی ہے۔ کارکنوں نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عمل تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے۔ بی ایس او پجار اس کو مکمل مسترد کرتا ہے کیونکہ یورنیورسٹی انتظامیہ کا یہ نوٹیفکیشن اس سوچ کا عکاسی کرتا ہے جو بلوچ نوجوان کو کتاب کلچر سے دور کر رہا ہے۔ یورنیورسٹی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن میں واضح ہے سماجی اور سیاسی اجتماع پر پابندی اس سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ یورنیورسٹی انتظامیہ میں بیٹھے ہوئے حکام آمرانہ سوچ رکھتے ہیں۔ کیونکہ تنظیم طلباءکے آزادانہ سوچ پر پابندی اور تعلیم دشمن پالیسی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ اجلاس میں کارکنان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تربت یونیورسٹی مکمل آقاو¿ں کے لائن پر کام کررہا ہے اور انہیں کہ حکم پر طلبا کو پریشر دی رہی ہے اور طلباءسیاست پر کدغن لگایا ہے۔ اجلاس میں کارکنان نے خطاب کرتے ہوئے کہا آئے روز یونیورسٹی انتظامیہ کے آقا تربت یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں اور طلباءکی نام کو رجسٹریشن لسٹ سے چیک کرکے ان کو پروفائلنگ کرتے ہیں اور تربت یونیورسٹی کی انتظامیہ ان کو بھرپور تعاون کرتا ہے۔ یونیورسٹی میں طلباءسیاست پر پابندی ہے دوسرے جانب بالادست طبقات آئے روز قیام امن اور دیگر موضوعات پر پروگرام کرتے لیکن تربت یونیورسٹی انتظامیہ ان کی جی حضوری کرتا ہے کیونکہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ کالونیل سوچ سے ملا ہے اور یہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں بلوچستان ایک پر امن خطہ ہے لیکن یہ حقیقت سے بر عکس ہے۔ تربت یونیورسٹی کو ایک چھاﺅنی بنا دیا گیا ہے اور تربت یونیورسٹی انتظامیہ کی تعاون سے سکیورٹی اہلکار طلباءکو واچ کررہے ہیں اور تربت یونیورسٹی کے لاپتہ طلباءکی زمہدار بھی تربت یونیورسٹی انتظامیہ ہے کیونکہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ کی تعاون سے طلبا کو پروفائلنگ کرنے کے بعد لاپتہ کیا جاتا ہے۔ آخر میں بی ایس او پجار کے کارکنوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم کسی صورت تربت یونیورسٹی کے آمرانہ رویہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور مرتے دم تک ان آمرانہ رویوں کی مقابلہ کرتے رہیں گے اور ساست ہماری بنیادی حقوق ہے اور دنیا کے کوئی طاقت ہمیں سیاست کرنے سے نہیں روک سکتا۔ بی ایس او نے بڑی بڑی آمروں کی دور میں ان کا مقابلہ کیا اسی طرح تربت یونیورسٹی انتظامیہ کے آمرانہ رویوں کا مقابلہ پر امن سیاسی تحریک سے کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں