خاران میں بدامنی، چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں کیخلاف شٹر ڈاﺅن، تاجروں، سیاسی، سماجی و مذہی حلقوں کا شدید احتجاج اور دھرنا

خاران (نامہ نگار) خاران میں بدامنی عروج پر، چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ، شہری غیر محفوظ، ضلعی انتظامیہ پولیس اور سیاسی نمائندگان خاموش تماشائی بنی ہوئی، شہری سراپا احتجاج، مکمل شٹرڈاﺅن ہڑتال، چیف چوک پر دھرنا جاری۔ خاران میں بدامنی عروج پر پہنچ گئی ہے، شہر اور گردونواح کے علاقوں میں چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے شہری غیر محفوظ ہوئے ہیں، شہر خاران میں بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری اور لوٹ مار کی مسلسل وارداتوں کے خلاف شہریوں کا غم و غصہ پھٹ پڑا، تاجر برادری، کاروباری شخصیات، سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں سمیت مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے جبکہ بازار پنچایت کی جانب سے خاران شہر میں مکمل شٹر بند ہڑتال کرکے مرکزی چیف چوک کو مکمل طور پر بند کرکے دھرنا دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا ہے کہ خاران شہر میں آئے روز چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور متعلقہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے میں مکمل ناکام دکھائی دے رہی ہے، احتجاجی دھرنے میں شریک متاثرین تاجروں اور شہریوں کا کہنا تھا کہ اب نہ دکانیں محفوظ ہیں اور نہ ہی گھروں کو تحفظ حاصل ہے، نامعلوم ملزمان دن دہاڑے وارداتیں کرکے فرار ہو جاتے ہیں جبکہ پولیس کارروائی کے بجائے صرف دعوﺅں تک محدود ہے،مظاہرین نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، بازار پنچایت اور تاجر تنظیموں کے رہنماﺅں نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر حالیہ وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ دوسری جانب احتجاج کے باعث چیف چوک اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہو کر بدامنی کیخلاف نعرے بازی کرتی رہی۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خاران میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں