اثاثے،دہری شہریت اور مفادات کا تصادم

اداریہ
وزیر اعظم عمران خان نے ایک ماہ قبل اپنے مشیروں اور معاونین کو ہدایت کی تھی کہ وہ دو ہفتوں میں اپنے اثاثے،دہری شہریت اور conflict of interest(کوئی ایسا کاروبار تو نہیں کر رہے جسے ان کا مشیر یا معاون خصوصی جیسے عہدے پر فائز ہونے سے فائدہ پہنچ رہا ہو) کے حوالے سے تمام معلومات فراہم کردیں بلکہ عوام کے سامنے لے آئیں مگر 20جون2020کو دی گئی دو ہفتوں کی بجائے چار ہفتے سے زائد وقت گزر چکالیکن وزیر اعظم کے مشیروں اور معاونین نے تا حال اس کی تعمیل نہیں کی اپنے اثاثہ جات، دہری شہریت اور conflict of interest کے بارے میں معلومات عوام کے سامنے نہیں پیش کیں۔اس سے یہی تأثر پیدا ہوتا ہے کہ بیوروکریٹس کی جانب سے حکومتی احکامات نہ ماننا پرانی بات ہو چکی۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل مشیر اور معاونین بھی ہدایت پر عمل کے لئے تیار نہیں ہیں۔زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔مصلحتوں کا شکار ہیں یا ان کی بعض ان دیکھی مجبوریوں نے انہیں دبوچ لیا ہے اور چاہتے ہوئے بھی وہ اپنی ہدایت پر عمل کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔یہ ایسی سچائی ہے جسے لفظوں کے پیچھے چھپانا مشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ 21مئی 2020 کو وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز ٹی وی چینلزپریہ اطلاع عوام تک پہنچانے میں فخر محسوس کر رہے تھے مگر 21 جون کو بعض چینلز پر وزیر اعظم کی ہدایت پر عمل نہ کئے جانے کے حوالے سے کسی سوال کا جواب دینے کے لئے دستیاب نہیں تھے۔اینکرز انتظار کرتے رہے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز طبعاًشریف النفس انسان ہیں،اس لئے انہوں نے مشیروں اور معاونین کے غلط کاموں کا بے جا دفاع سے گریز کیا، اینکرز کا سامنا نہیں کیا۔
لیکن وزیر اطلاعات کے منہ چھپانے سے مسئلہ نہیں دبے گابلکہ اسے دبانے کی جتنی کوشش کی جائے گی یہ اتنا ہی پریشان کن ثابت ہوگا۔90کی دہائی میں الیکٹرانک میڈیاپاکستان میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا،ایک سرکاری ٹی وی چینل تھا جو حکومتی قصیدہ خوانی کے علاوہ کچھ جانتا ہی نہیں تھا۔سرکاری رعب و دبدبے کا یہ عالم تھا کہ سینماؤں میں لوگ خفیہ پولیس والوں کے خوف سے صدر پاکستان کے لئے چلائی جانے والی تشہیری مہم میں صدرپاکستان کے نمودار ہوتے ہی تالیاں بجانے لگتے تھے۔آج کل سینما اجڑ گئے ہیں۔کورونا کی وجہ سے ویرانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔اور پاکستان کی ضرورت سے زیادہ ٹی وی چینلزپل پل کی خبریں عوام تک پہنچانے میں دوسروں پر سبقت لیجانے کی دھن میں وہ سب کچھ عوام کے سامنے لا رہے ہیں جو موجودہ حکومت کو بھی ہضم نہیں ہو رہا۔چینلز وزیر اعظم عمران کو 2011میں کئے گئے اعلانات یاد دلا رہے ہیں کہ جو شخص دہری شریت کا حامل ہے اسے تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا حق نہیں دیا جاسکتااس لئے کہ اس نے دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔جن کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ انہیں بیچ کر پاکستان آئیں اور سیاست میں حصہ لیں۔لیکن آج ان کی کابینہ میں ایسے افراد کا جم غفیر نظر آتا ہے جن کے پاس دہری شہریت ہے،بیرون ملک جائیدادوں کے مالک ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کی ہدایت پر چار ہفتے گزر جانے کے باوجود عمل نہیں کیا۔وزیر اعظم عمران خان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ
سورۃ الصّف کی دوسری آیت میں اَللہ نے ایمان والوں سے سوال کیا ہے کہ تم وہ بات کیوں کرتے ہو؟ جس پر عمل نہیں کرتے! اور تیسری آیت میں واضح کیا ہے کہ اَللہ کو یہ رویہ سخت ناپسند ہے کہ تم جو کہو اس پر عمل نہ کرو!
انہیں یاد ہونا چاہیئے کہ ان کے اقتدار کے 5برسوں میں سے دو برس گزر چکے چالیس فیصد وقت گرنے کے بعد بھی وہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے مشیروں اور معاونین سے اثاثوں کی تفصیل، دہری شہریت اور conflict of interest کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیر اعظم عوام کو بتائیں آخر ایسی کون سی مجبوری ہے؟
عوام سے مدد مانگیں۔ عوام سے کوئی بات نہ چھپائیں،عوام سے سچ بولیں،عوام کو آواز دیں۔ورنہ یہ وعدہ خلافی اور اپنے داغ دار مشیروں اور معاونین کو بچانے کی کوشش انہیں لے ڈوبے گی۔سب نے دیکھ لیا ہے کہ چینی مافیا، آٹا مافیا اور پیٹرول مافیا میں یہی مشیر اور معاونین شامل ہیں۔دہری شہریت والے،دوسرے ملک سے وفادری کا حلف اٹھانے والے پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے۔شوکت ترین اور شوکت عزیز ماضی کی دو مثالیں ہیں۔اس کھیل کو ختم ہونا چاہیئے۔قرضوں کی ادائیگی مشیروں اور معاونین نے نہیں کرنی،قرضہ مساضی کی حکومتوں نے لیا تھا یا موجودہ حکومت لے رہی ہے ادائیگی عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے کریں گے۔ عوام سے کچھ نہ چھپایا جائے ایسا کرنے والے آج عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں،پی ٹی آئی کے چیئرمین وہی غلطی دہرائیں گے تو انہیں بھی کل وہی کچھ دیکھنا پڑے گا۔ تاریخ کسی کی غلطیاں معاف نہیں کرتی۔عمران خان کسی خوش فہمی میں نہ رہیں تاریخ کے فیصلے بے رحم ہوتے ہیں۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے والا قانون ہمیشہ یاد رہے۔دہری شہریت چھپانے والوں کی بے جا ناز برداری آنے والے دنوں میں نقصان دہ ثابت ہوگی۔وزیر اعظم جرأت سے کام لیں بلا تاخیراپنی ہدایت پر عمل کرائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں