لاپتا یوسف اور شفیع کو ماورائے آئین قتل کیا گیا، کوئی مجرم ہے تو سزا صرف عدالت دے سکتی ہے، وی بی ایم پی

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں ہلاک مشتبہ شخص کی شناخت ہوگئی۔ وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے ایکس اکا?نٹ میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی نے گزشتہ دنوں ہزار گنجی کوئٹہ میں دو افراد کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا ان میں سے ایک کی شناخت محمد یوسف نیچاری کے نام سے ہوئی ہے، یوسف کو رواں سال 26 اگست کو نیچاری آباد کلی بڑو کوئٹہ اور محمد شفیع بنگلزئی کو 13 اگست کو ان کے بھائی سلیمان کےساتھ پرکانی اسٹریٹ کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سی ٹی ڈی اور مشتبہ افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 مشتبہ افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق مشتبہ افراد کوئٹہ میں تخریب کاری کے منصوبے سے داخل ہوئے تھے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کی مطابق مارے جانے والے مشتبہ افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ اس حوالے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے اپنے ایکس اکا?نٹ میں کہا کہ اگر کوئی ریاست کا مجرم ہے تو اسے ملکی قوانین کے تحت سزا صرف عدالت دے سکتی ہے۔ ملکی اداروں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو جبری لاپتہ کرے، انہیں اپنے زندانوں میں اذیت دے کر دوران حراست قتل کردے، یوسف اور شفیع کو ماورائے آئین قتل کیا گیا ہے، سپریم کورٹ اس واقعے کا نوٹس لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں