وڈھ میں مخالف فریق سیاسی شکست کا بدلہ لینے کیلئے مسافر گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جھالاوان عوامی پینل

کوئٹہ (پ ر) جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وڈھ کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ لشکر کشی سنڈیمنی سردار نے کی ہے، اصل وجوہات اور حقائق کا جائزہ اگر کوئی جائزے کی طرح لینا چاہیے تو حقائق دو اور دو چار کی طرح واضح ہیں، راتوں رات ایف سی ہوٹل پوسٹ چیک پوسٹ تھانے اور انتظامیہ کو روندتے ہوئے تین کلومیٹر اپنے حدود سے ناجائز آگے بڑھ کر حملہ آور ہوئے۔ معاملات کو جزوی طور پسند اور ناپسند کی بنیاد پر حل نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے دفاع کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اپنے رہنما?ں کے مشن سے جبری طور نہیں ہٹایا جاسکتا نہ ہی بزور طاقت فاشسٹ نظریہ کو مسلط کیا جاسکتا ہے۔ جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی سینئر رہنما?ں میر رحمت رخشانی، میر بلوچ خان مینگل، سعید اللہ محمدحسنی سمیت سینکڑوں رہنما?ں کا خون نام نہاد سردار کے ایمائ پر بہایا گیا۔ آج بھی مختلف دہشتگرد گروہوں کے اشتہاری افراد کے ذریعے شب خون مارا جارہا ہے، سرداری کو بچانے کیلئے نت نئے ہربوں سے خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے، لوگوں کو منصوبے کے تحت نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ وڈھ کشیدگی سے متعلق ثالثین کو جنگ بندی کی زبان دے کر زبان توڑنے والوں کے شر سے اب مسافر، ٹرانسپورٹرز بھی محفوظ نہ رہے۔ مخالف فریق اب وڈھ شہر آنے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بھی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وڈھ کے زمینداروں کے اجناس کو دیگر شہروں میں لے جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے انھیں بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وڈھ کے عوام کا راشن بند اور کاروبار زندگی شدید متاثر کردی گئی ہے دکانوں کے تالے توڑ کر سامان لوٹ کر لے جایا جارہا ہے۔ بلوچستان کا ہرذزی شعور ان کے سیاسی ونگ کے عزائم سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے۔ وڈھ کے عوام کو غلام بنانے والے دہائیوں سے وڈھ پر حکمران رہے۔ تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، تک نہ دے سکے، البتہ وڈھ کو بارود کا ڈھیر بناچکے، تاکہ خوف و ہراس کے ماحول میں سیاسی حق سے محروم رکھا جاسکے۔ جھوٹی ہمدردی سمیٹ کر بلوچستان کے سادہ لوح بلوچ عوام کو جھوٹے پروپیگنڈوں اور من گھڑت الزامات میں الجھا کر لوٹ مار کیلئے اقتدار کے راستے کو ہموار کرنے والے وڈھ کے خیر خواہ نہیں بلوچستان کی خیر خواہی تو بہت دور کی بات ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وڈھ کشیدگی سے متعلق سوشل میڈیا پر تمام تر مواد ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے ایک دن بھی وڈھ میں نہیں گزارہ سوشل میڈیا پر چلنے والی بے رخ ہواو¿ں کا اصل محرکات اور حالیہ صورتحال سے کوئی واسطہ نہیں، خونی تنازعہ سے قبل ہی میر شفیق الرحمٰن مینگل نے ثالثین کو باقاعدہ اختیارات دیے لیکن مخالف فریق کے سربراہ لاشوں کے منتظر تھے تاکہ سیاسی شکست کا بدلہ اور آنے والے انتخابات کیلئے سیاسی آکسیجن لی جاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں