مبارک قاضی کی موت قومی سانحہ ہے، مرحوم بلوچ راج کے ترجمان تھے، پنجگور میں تقریب سے مقررین کا خطاب

پنجگور(این این آئی ) گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گرمکان میں چراغ میوزیکل لبزانکی غل گرمکان کی طرف سے بلوچ شاعر مبارک قاضی کی یاد میں ایک مراگشی پروگرام کا انعقاد کیاگیا ،جس کے مہمان خاص سول سوسائٹی کے صدر حاجی افتخار احمد جبکہ دیگر مہمانوں میں بلوچ شاعر ملک ابراھیم ابرار ظہور زیبی ولی ساسولی ملک سعید اکبر غلام نبی باھند سلطان غفور شکوراحمد مختیار واہگ خدارحم ساجد شہزاد رضا، کہدہ عبدالسلام لعل محمد مہر عبدالمالک شامل تھے اسٹیج سیکرٹری کی زمہ داریاں احسان بلوچ نے سرانجام دئے مراگشی پروگرام کے میزبان خدارحم ساجد نے مرحوم مبارک قاضی کا ایک شعر پڑھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔مقررین نے مراگشی پروگرام میں بلوچی عہد ساز شاعر وادیب مبارک قاضی کی زندگی پر روشنی ڈالی اور انہیں بلوچ شاعری وادب کا بادشاہ قراردیا مراگشی دیوان میں شعرا نے مبارک قاضی کے شعر پڑھے اور بلوچی زبان اور ادب کے لئے انکی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔مقررین نے کہا کہ مبارک قاضی بلوچ راج کا ترجمان تھے جو اپنے شاعری کے زریعے بلوچ سماج کی عکاسی کیا کر تے تھے وہ ایک سوچ تھے جسے سمجھنے میں ہر کسی کو آسانی ہوتا تھا مبارک قاضی وہ ہستی تھے نہ کھبی جھکے اور نہ کھبی بہکے بلکہ آخری دم تک بلوچ قوم کی ترجمانی کرتا رہا مبارک قاضی کی موت ایک قومی سانحہ ہے اس طرح کی ہستیاں صدیوں بعد جاکر پیدا ہوتے ہیں مقررین نے مبارک قاضی کو اس عہد کا سب سے بڑا شاعر قرار دیا اور کہا کہ جو قومیں اپنی زبان اور ادب سے لگاو رکھتی ہیں انکا وجود برقرار رہتا ہے مبارک قاضی کو اپنی زبان اور زمین سے عشق تھا لٹریچر ادب کے زریعے شاعر معاشرے کی عکاسی کرتا ہے مبارک قاضی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں